شامی تنازعے کا حقیقی مسئلہ صرف حزب اختلاف ہے:مشعل کیلو

مارکسسٹ دانشور کی العربیہ کے ساتھ انٹرویو میں شامی قومی اتحاد پر کڑی تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام کے حکومت مخالف بزرگ رہ نما اور مارکسسٹ دانشورمشعل کیلو کا کہنا ہے کہ ''اس وقت شامی تنازعے کا حقیقی مسئلہ حزب اختلاف ہے''۔انھوں نے العربیہ کے ساتھ انٹرویو میں شامی حزب اختلاف کے قومی اتحاد (ایس این سی) کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

ان کے بہ قول:''اس وقت حقیقی ،حقیقی اور حقیقی مسئلہ شامی قومی اتحاد ہے''۔انھوں نے یہ بات سوموار کو استنبول میں شامی قومی اتحاد کے اجلاس کے دو روز بعد انٹرویو میں کہی ہے۔اس اجلاس میں مشعل کیلو کو ایس این سی میں شامل کیا گیا ہے۔

انھوں نے شامی قومی اتحاد کو خبردار کیا کہ اگر اس میں شامل لیڈروں میں جمعرات تک کوئی سمجھوتا نہیں ہوتا تو وہ ان کے خفیہ گوشوں کو بے نقاب کردیں گے۔انھوں نے کہا کہ ''ہمارا یہ کبھی طرز نہیں رہا کہ ہم سفیروں،ریاستوں یا سیاسی رقم پر انحصار کریں اور نہ ہی ہمیں اپنے اتحاد کے قیام کے لیے قطر جانا چاہیے تھا''۔

واضح رہے کہ شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کے مخالف مختلف گروپوں پر مشتمل شامی قومی اتحاد گذشتہ سال نومبر میں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں معرض وجود میں آیا تھا۔اس اتحاد کے لیڈروں کے درمیان بحران کے حل کے حوالے سے شدید اختلاف پائے جاتے ہیں اور اس کے لیڈر ابھی تک امریکا اور روس کی مجوزہ جنیوا امن کانفرنس میں شرکت یا عدم شرکت کے حوالے سے بھی کوئی فیصلہ نہیں کرسکے۔

مشعل کیلو نے یورپی یونین کی جانب سے شام پر عاید اسلحے کی پابندی کے خاتمے پر بھی اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ایک طرف تو باغی جنگجوؤں کو ہتھیار مہیا کرنے کی تیاری کی جارہی ہے اور دوسری جانب جنیوا میں شامی بحران کے سیاسی حل کے لیے امن کانفرنس بھی بلائی جارہی ہے۔

تاہم اس مجوزہ کانفرنس کے انعقاد اور اس کے بعد اس کے نتائج کے ثمرات منظرعام پر آنے تک کوئی بھی یورپی ملک باغی جنگجوؤں کو اسلحہ مہیا نہیں کرے گا۔شامی حکومت نے یورپی یونین کی جانب سے باغی جنگجوؤں کو اسلحہ مہیا کرنے کے فیصلے کی مذمت کی ہے اور اسے تنازعے کے سیاسی حل کے لیے کی جانے والی کوششوں کی راہ میں ایک رکاوٹ قرار دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں