شامی فوج کا القصیر کے نزدیک ائیر بیس پر قبضہ، باغیوں کے لیے دھچکا

یو این حقوق کونسل میں شام میں حزب اللہ کی موجودگی کے خلاف مذمتی قرارداد منظور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

شامی صدربشارالاسد کی وفادار فوج نے وسطی قصبے القصیر کے نزدیک واقع ایک ائیربیس پر قبضہ کر لیا ہے جبکہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے شام کے اس سرحدی قصبے میں غیرملکی جنگجوؤں کی موجودگی کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کر لی ہے۔

شام کے سرکاری میڈیا نے القصیر کے نزدیک واقع ائیربیس پر سرکاری فوج کے قبضے کی اطلاع دی ہے اور کہا ہے کہ یہ باغیوں کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔اسدی فوج اور حزب اللہ کے جنگجوؤں نے پہلے ہی القصیر کا تین اطراف سے محاصرہ کررکھا ہے۔اب شمال کی سمت میں واقع گاؤں دبعا پر ان کے قبضے کے بعد باغی جنگجو مکمل طور پر محصور ہو کررہ گئے ہیں اور ان کے لیے کمک کے راستے بھی مسدود ہوگئے ہیں۔

شام کے سرکاری ٹیلی ویژن نے ایک نشریے میں بتایا ہے کہ ''ہمارے فوجیوں نے پانچ گھنٹے کی شدید لڑائی کے بعد دبعا ائیربیس پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے''۔شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے المنار ٹی وی نے شامی فوج کی ٹینکوں سمیت ائیربیس کے اندر داخل ہونے کی فوٹیج نشر کی ہے۔

ہوائی اڈے پر قبضے کے لیے حملے مِیں حصہ لینے والے ایک شامی افسر نے اپنے ساتھ موجود المنار ٹی وی کے نمائندے کو بتایا کہ ''اس وقت ہم ائیرپورٹ کے اندر کھڑے ہیں۔لڑائی میں بہت سے باغی جنگجو مارے گئے ہیں،متعدد کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور کئی بھاگ گئے ہیں لیکن ان کا پیچھا کیا جارہا ہے''۔

وسطی صوبے حمص میں لبنان کی سرحد کے نزدیک واقع اس قصبے پرشامی حکومت کا اگر مکمل قبضہ ہوجاتا ہے تو یہ باغی جنگجوؤں کے لیے بڑا دھچکا ہوگا کیونکہ انھیں لبنان سے اسی راستے سے اسلحہ مہیا ہورہا ہے۔شامی فوج کے قبضے کے بعد انھیں لبنان سے اسلحے کی ترسیل بند ہوجائے گی اور یہاں شکست سے ان کے مورال پر بھی فرق پڑے گا۔اس قصبے پر قبضے کے بعد دمشق حکومت کو بحر متوسط تک رسائی حاصل ہوجائے گی اور اس کے خلاف ملک کے شمالی اور جنوبی علاقوں میں برسرپیکار باغیوں کا آپس میں زمینی رابطہ منقطع ہوجائے گا۔

درایں اثناء ادھر جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں شام میں لبنانی ملیشیا کی موجودگی اور باغی جنگجوؤں کے خلاف شامی فوج کے شانہ بشانہ لڑائی میں حصہ لینے کی مذمت میں قرارداد منظور کر لی گئی ہے۔

سینتالیس ارکان پر مشتمل انسانی حقوق کونسل کے چھتیس ارکان نے حزب اللہ کے خلاف قرارداد کے حق میں ووٹ دیا ہے۔آٹھ ممالک کے نمائندے رائے شماری کے وقت غیر حاضر تھے،دو نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا اور صرف وینزویلا نے قرارداد کی مخالفت میں ووٹ ڈالا ہے۔

قرارداد کا مسودہ امریکا ،ترکی اور قطر نے منگل کو پیش کیا تھا۔یہ ایک غیر پابند قرارداد ہے اور شامی حکومت کے لیے اس کی پابندی لازمی نہیں۔البتہ یہ اس انتباہ کی مظہر ضرور ہے کہ شام کے وسطی قصبے میں غیرملکی جنگجوؤں کی موجودگی سے علاقائی استحکام کو سنگین خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔قرارداد میں شامی حکومت پر زوردیا گیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ اور انسانی امدادی ایجنسیوں کو تشدد سے متاثرہ تمام شہریوں اور خاص طور پر القصیر تک آزادانہ اور بلاروک ٹوک رسائی دے۔

قبل ازیں آج فرانسیسی وزیرخارجہ لوراں فابئیس نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اس وقت حزب اللہ کے تین سے چار ہزار کے درمیان جنگجو شام میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے ساتھ مل کر باغیوں کے خلاف لڑائی میں شریک ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں