.

اسد کی اقتدار سے علاحدگی پر مذاکرات جاری ہیں: فرانسیسی سفارتکار

مذاکرات میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری کی روس نوازی حیران کن تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک فرانسیسی سفارتکار نے 'العربیہ ڈاٹ نیٹ' سے خصوصی گفتگو میں شامی تنازع کے تناظر میں ہونے والی پیش رفت سے پردہ اٹھایا ہے۔ اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے درخواست کرنے والے فرانسیسی سفارتکار کے مطابق تہران میں فرانسیسیوں کی ایرانی عہدیداروں سے غیر معمولی ملاقاتیں ہوئیں جس میں ہم نے ایران سے دوسری جینیوا کانفرنس میں شرکت پر زور دیا مگر صرف اس بات پر ہمارا اتفاق ہوسکا کہ ہم متفق نہیں ہیں، چنانچہ مذاکرات ناکام ہوگئے۔

ذرائع کے مطابق فرانس اور روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے ساتھ مذاکرات میں شامی صدر بشار الاسد کی رخصتی پر اتفاق ہو چکا تھا، لیکن پھر اچانک ایک ٹیلی فون کال آئی اور انہوں نے اپنی رائے بدل لی تھی۔

سفارتکار نے مزید کہا کہ انہیں اس وقت بشار الاسد کے حوالے سے روسی مطالبات کے مقابلے میں امریکی سیکرٹری خارجہ جان کیری کے موقف میں نرمی پر سخت تشویش ہے۔ فرانس اور برطانیہ سکیورٹی، فوج اور مرکزی بنک کی منتقلی چاہتے تھے مگر امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے ہماری تجاویز کے برخلاف روسی دباؤ قبول کرلیا۔

انہوں نے تہران کے ساتھ سفارتی مذاکرات کے بارے میں بتایا کہ ایرانیوں نے فرانسیسی وفد کا تہران میں بڑا والہانہ استقبال کیا۔ ان کے ساتھ مذاکرات میں شام کی صورتحال مرکزی موضوع گفتگو تھا۔ آغاز میں ایرانیوں نے شام میں حزب اللہ کے جنگجووں کی لڑائی کی توجیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کی شمولیت القصیر میں اہل تشیع اور سیدہ بی بی زینب کے مزار کی حفاظت تک محدود ہے۔ انہوں نے جبھۃ النصرہ پر الزام لگایا کہ وہ فرقہ ورانہ فسادات کو ہوا دے رہا ہے۔

فرانسیسی سفارت کار نے ایران کی جنیوا 2 کانفرنس میں شرکت کے حوالے سے بات چیت پر گفتگو کی۔ ایرانیوں کے ساتھ ہمارا اتفاق نہیں ہو سکا، بالخصوص جب ایرانیوں نے اگلے سال انتخابات میں بشارالاسد کے صدارتی امیدوار ہونے کے امکان کی بات کی تو فرانس کا موقف تھا کہ اس وقت وہ ایک ایسے امیدوار ہونگے جنہوں نے جرائم کا ارتکاب کیا ہو۔


سعودیہ، یو اے ای، جرمنی اور برطانیہ ہمارے حلیف ہیں


فرانسیسی سفارت کار نے امریکا کی جانب سے ایران کو جنیوا ٹوکانفرنس میں شرکت کی اجازت نہ دینے پر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ امریکیوں کا خیال ہے کہ ایرانیوں کے لیے کانفرنس میں شرکت کا درمیانی راستہ نکالا جائے۔ ایران کانفرنس میں شرکت تو کرے مگر برطانیہ، فرانس اور امریکا کے پہلو بہ پہلو نہیں بلکہ کانفرنس سے پہلے ہی ایک خصوصی اجلاس، جس میں سعودی عرب، قطر، ترکی اور مصر ہوں، میں ایران کو شریک کیا جائے۔

انہوں نے بتایا کہ امریکا مان بھی جائے تو فرانس بشارالاسد کی حکومت کو برداشت نہیں کرے گا۔ فرانسیسی اس ضمن میں کافی تلخ ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بشار الاسد کا معاملہ کافی پیچیدہ ہے۔

فرانسیسی سفارت کار نے روس کے اچانک تبدیل شدہ رویے پر شدید حیرت کا مظاہرہ کیا اور کہا کہ روس اور فرانس جنیوا کی پہلی کانفرنس ایک مرتبہ بشار الاسد کی روانگی پر متفق ہوگئے حتی کہ اسد کو جس ملک جلاوطن کرنا ہے اس پر بھی اتفاق ہوگیا مگر اچانک روسی وزیر خارجہ کا ٹیلی فون آیا اور انہوں نے اپنی رائے تبدیل کرلی جس سے بڑا دھچکا لگا۔

پہلی جنیوا کانفرنس سے موازنہ کریں تو پیش آئند جنیوا کانفرنس میں کیا نئی بات ہوگی؟ اس پر ان کا کہنا تھا ہم نے اس میں نئی شقیں شامل کی ہیں۔ ہم نے ان میں ایگزیکٹو اتھارٹیز کو فوج اور دیگر سکیورٹی فورسز سے واپس لینے اور بشار الاسد کے فیصلہ سازی کے اختیارات واپس لینے کی شق شامل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس شق پر روس متفق نہیں ہے اور ہمیں خوف ہے کہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری اس معاملے میں روس کا ساتھ دے دینگے۔
دوسری جنیوا کانفرنس میں شامی اپوزیشن کے وفد کے اراکین کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ ہم نے امریکا اور برطانیہ نے اس بات پر اتفاق کرلیا ہے کہ اپوزیشن وفد کے لیے شام کا قومی اتحاد ایک چھتری کا کام دیگا، لہذا اس وفد میں قومی اتحاد کی رکنیت نہ رکھنے والے بھی شامل ہو سکیں گے۔

انہوں نے دوسری جنیوا کانفرنس کے انعقاد میں مشکلات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ معاملات آہستہ آہستہ حل ہو رہے ہیں اور اس ضمن میں کوئی کانفرنس کے انعقاد کی کوئی حتمی تاریخ نہیں دی جا سکتی۔

لبنان کی صورتحال

’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں فرانسیسی سفارت کار نے کہا کہ حقیقی خطرہ یہ ہے کہ جو کچھ شام میں ہو رہا ہے اس کے دوران نفسیاتی اور جغرافیائی سرحدیں ختم ہوگئی ہیں۔ لبنانیوں کی طرح ہمیں بھی شامی مہاجرین پر تشویش ہے، بالخصوص لبنان کی فوج، پولیس اور عدلیہ جیسے حساس اداروں میں پیدا ہونے والا عدم توازن انتہائی گھمبیر ہے۔ اسی لیے ہم سمجھتے ہیں کہ شام میں حکومت کی تشکیل میں انتہائی تیزی کی ضرورت ہے۔ لبنان میں حالات انتہائی کٹھن ہوگسے ہیں۔ یہاں سیاحت اور سرمایہ کاری کے شعبے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔