.

بغداد میں بم دھماکے اور موصل میں مسلح جھڑپ،21 افراد ہلاک

صوبہ الانبار اور صلاح الدین کے گورنروں کے قافلے پر قاتلانہ بم حملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے دارالحکومت بغداد کے شیعہ اور سنی آبادی والے علاقوں میں جمعرات کو چھے بم دھماکوں اور شمالی شہر موصل میں مسلح جھڑپ میں اکیس افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

عراقی پولیس کی اطلاع کے مطابق بغداد کے شمالی علاقے بنوج ایک کار بم دھماکا ہوا ہے ۔اس واقعے میں چار افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔دارالحکومت کے شیعہ اور سنی اکثریتی علاقوں میں پانچ اور بم دھماکے ہوئے ہیں جن میں دس افراد مارے گئے ہیں۔

فوری طور پر کسی گروپ نے بغداد میں ان بم حملوں کی ذمے داری قبول نہیں کی۔ عراقی حکام ملک میں القاعدہ کی شاخ ریاست اسلامی پر دہشت گردی کے اس طرح کے حملوں کا الزام عاید کرتے چلے آرہے ہیں۔

ادھرشمالی شہر موصل میں مسلح افراد اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپ ہوئی جس میں تین پولیس اہلکار اور چار حملہ آور مارے گئے ہیں۔

درایں اثناء عراق کے دو سنی اکثریتی صوبوں الانبار اور صلاح الدین کے گورنروں کے قافلوں پر کار بم حملے کیے گئے ہیں لیکن وہ دونوں ان قاتلانہ حملوں میں محفوظ رہے ہیں۔یہ دونوں گورنر عراقی وزیراعظم نوری المالکی کے ساتھ ملک میں اہل سنت اور اہل تشیع کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے تعاون کررہے ہیں۔

گذشتہ ماہ شمالی شہر کرکوک کے نزدیک واقع قصبے حوائجہ میں سرکاری سکیورٹی فورسز کے اہل سنت مظاہرین پر خونیں کریک ڈاؤن کے بعد سے ملک میں تشدد کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہواہے۔ فرقہ وارانہ بنیاد پر حملوں میں اہل تشیع اور اہل سنت دونوں سے تعلق رکھنے والے جنگجو ایک دوسرے کو نشانہ بنارہے ہیں۔حوائجہ کے واقعہ کے بعد سے ایک ہزار ایک سو سے زیادہ افراد مارے جاچکے ہیں۔

مئی کے دوران ملک کے مختلف علاقوں میں تشدد کے واقعات میں پانچ سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔واضح رہے کہ سنہ 2006ء اور 2007ء میں تشدد کے عروج کے بعد ایک مرتبہ پھر فرقہ وارانہ بنیاد پر حملوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔تشدد کے ان واقعات میں اب تک اس سال ہر ماہ اوسطاً دوڈھائی سو افراد ہلاک ہورہے ہیں۔