.

شامی حکومت کی امن مذاکرات میں شرکت کے لئے کوئی شرط نہیں: ولید المعلم

نیشنل الائنس: بشار الاسد کی اقتدار سے علاحدگی ہی سیاسی حل کی بنیاد ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی وزیر خارجہ ولید المعلم کا کہنا ہے کہ جینوا امن مذاکرات میں شرکت کے لئے دمشق کی کوئی پیشگی شرط نہیں تاہم شام کانفرنس کے بارے میں مزید تفصیلات کا منتظر ہے۔ دوسری جانب شامی اپوزیشن جنیوا مذکرات میں شرکت کے لئے بشار الاسد کی اقتدار سے علاحدگی کو بنیادی شرط قرار دے رہی ہے۔

بین الاقوامی اور عرب فورمز پر شامی اپوزیشن کی صفوں میں توسیع اور ان کے درمیان باہمی اختلافات پر قابو پانے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ استنبول میں شامی اپوزیشن کے طویل اجلاسوں کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ کسی شامی بحران کے حل کی خاطر بشار الاسد کی اقتدار سے برخاستگی بنیادی شرط ہے۔

شامی نیشنل الائنس کی حالیہ شرط اتحاد کے اندر شدید اختلافات کے بعد سامنے آئی ہے۔ مختلف جماعتوں کے درمیان اختلاف اتحاد میں نئی جماعتوں کی شمولیت کے معاملے پر دیکھنے میں آئے ہیں۔
یاد رہے کہ شامی اپوزیشن کے سات روز سے جاری اجلاسوں کے بعد بھی کسی نتیجے پر نہ پہنچنے کی وجہ سے عرب اور بین الاقوامی فورمز کو مداخلت کر کے تنظیم کے ارکان درمیان اختلافات ختم کرانا پڑے ہیں۔ ترکی کے شہر استنبول میں ہونے والے اجلاس کے دوران وزیر خارجہ داود اوگلو کی موجودگی پر اپوزیشن جماعتیں حیران تھیں اور ان میں بعض نے مسٹر اوگلو کی شامی اپوزیشن اجلاس میں شرکت پر اعتراض بھی اٹھایا۔

نیز شام میں امریکی سفیر رابرٹ فورڈ اور شامی منصوبے سے متعلق فرانسیسی نگران بھی استنبول میں موجود ہیں تاکہ وہ اپوزیشن جماعتوں کے اختلافات کم کرانے میں مدد کر سکیں اور انہیں کسی طور پر جینوا کانفرنس میں شرکت پر آمادہ کر سکیں۔

شامی اپوزیشن اتحاد میں شامل ذرائع کا کہنا ہے حالیہ اختلافات اتحاد کی صفوں میں ابتک ہونے والے اختلافات میں سب سے زیادہ شدید نوعیت کے ہیں۔