.

مشرقی بیت المقدس میں 1000 یہودی بستیاں تعمیر کرنے کا اسرائیلی منصوبہ

جان کیری کے دورے اور مشرق وسطی امن عمل شروع کرنے کی کوششوں کے بعد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں یہودی بستیوں کے ایک نئے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ تل ابیب کے اس اقدام سے امریکی سرپرستی میں ہونے والا امن عمل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ مقبوضہ فلسطین میں یہودی بستیوں کی مانیٹرنگ کرنے والی غیر سرکاری آبزرویٹری 'ٹرسٹال یروشلم' کے مطابق مجوزہ منصوبے کے تحت مشرقی یروشلم میں یہودیوں کے لئے ایک ہزار گھر تعمیر کئے جائیں گے۔

آبزرویٹری نے مزید انکشاف کیا ہے کہ راموت یہودی بستی میں تین سو مکانات کی تعمیر کا معاہدہ طے پا چکا ہے جبکہ مغربی کنارے میں بیت لحم کی نزدیک جیلو یہودی بستی میں آٹھ سو گھر فروخت کے لئے پیش کئے جائیں گے۔

تل ابیب نے اس منصوبے کی منظوری امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے دورے کے بعد دی۔ اس دورے کا مقصد فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان تعطل کے شکار امن مذاکرات کو از سر نو شروع کرنا ہے۔

تنظیم آزادی فلسطین کی ایگزیکٹو کمیٹی نے حال ہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو ان آپشنزکو حتمی شکل دے گی کہ جنہیں اسرائیل کی جانب سے یہودی بستیوں کے منصوبے جاری رکھنے کی صورت میں روبعمل لایا جائے گا۔ ایگزیکٹو کمیٹی نے مقبوضہ فلسطین میں یہودی آبادکاری منصوبے مکمل طور پر روکنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اسرائیل سے مذاکرات شروع کرنے سے قبل اس کی جانب سے 67 کی حدود کا احترام کرنے کا عہد لیا جائے۔

مقبوضہ فلسطین میں اسرائیل کے بڑھتے ہوئے آبادکاری منصوبوں نے تل ابیب کے آبادکاری عمل کو منجمد کرنے سے متعلق تمام وعدوں کو ردی کی ٹوکری کی نذر کر دیا ہے۔