.

حزب اللہ اور ایران کی مداخلت بند ہونے تک مذاکرات نہیں ہوسکتے:شامی اپوزیشن

شامی قومی اتحاد کا روس اور امریکا کی مجوزہ جنیوا کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی حزب اختلاف نے صدر بشارالاسد کے اتحادیوں حزب اللہ اور ایران کی جانب سے شام میں فوجی مداخلت ختم ہونے تک روس اور امریکا کی مجوزہ امن بات چیت میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

شامی قومی کونسل کے صدر اور حزب اختلاف کے قائم مقام صدر جارج صبرہ نے استنبول میں جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''اگر ایران اور حزب اللہ کی ملیشیائیں شام میں اپنی مداخلت جاری رکھتی ہیں تو قومی اتحاد کسی بین الاقوامی کانفرنس یا اس طرح کی کسی کوشش میں شریک نہیں ہوگا''۔

شامی قومی اتحاد(ایس این سی) کے لیڈروں نے استنبول میں ایک ہفتے تک بات چیت کے بعد جنیوا میں امریکا اور روس کی مجوزہ امن کانفرنس کے بارے میں یہ متفقہ موقف اختیار کیا ہے۔قبل ازیں اس نے یہ کہا تھا کہ وہ کسی بھی امن اقدام کا حصہ بننے کے لیے اصولی طور پر تیار ہے۔

جارج صبرہ نے جنیوا کانفرنس میں شرکت کے لیے نئی شرط ایسے وقت میں عاید کی ہے جب شام کے وسطی قصبے القصیر میں اسدی فوج اور لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے باغی جنگجوؤں کے مقابلے میں پیش قدمی جاری ہے۔انھوں نے کہا کہ ''اس صورت حال میں کسی بین الاقوامی کانفرنس کے بارے میں گفتگو یا شامی بحران کے سیاسی حل کی بات بالکل بے معنی ہوکررہ گئی ہے''۔

درایں اثناء شامی قومی اتحاد نے عالمی امدادی اداروں سے القصیر میں متحارب فوجوں کے درمیان لڑائی اور سرکاری فوج کی گولہ باری کے نتیجے میں زخمی ہونے والے ایک ہزار سے زیادہ شہریوں کو وہاں سے نکالنے کی اپیل کی ہے۔