.

خلیجی ریاستوں کا حزب اللہ کو دہشت گرد قرار دینے پر غور

جدہ میں خلیجی وزرائے خارجہ ایران کے جاسوسی نیٹ ورکس پرتبادلہ خیال کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چھے عرب ریاستوں پر مشتمل خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) آیندہ اتوار کو اپنے اجلاس میں لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کی شام میں صدر بشارالاسد کی حمایت میں کھلی عسکری مداخلت پر اسے دہشت گرد قرار دینے پر غور کرے گی۔

تنظیم کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے کویتی اخبار الرائے کو بتایا ہے کہ ''بحرین آیندہ اتوار کو جدہ میں تنظیم کے وزراَئے خارجہ کے اجلاس میں حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کے لیے کہے گا''۔بحرین اس وقت جی سی سی کا صدر ملک ہے۔

تاہم اخبار نے اپنی رپورٹ میں اس امر کی وضاحت نہیں کی کہ پوری حزب اللہ کو دہشت گرد قرار دے دیا جائے گا یا صرف اس کی ملیشیا کودہشت گرد قرار دیا جائے گا۔خلیجی وزرائے خارجہ اپنے اجلاس میں خطے کی سلامتی کی صورت حال ،ایران کے بڑھتے ہوئے خطرے اور خاص طور پر بعض خلیجی ممالک میں اس کے جاسوسی کے نیٹ ورکس کی موجودگی کے حوالے سے تبادلہ خیال کریں گے۔ان نیٹ ورکس کو حال ہی میں پکڑا گیا ہے۔

جی سی سی میں بحرین ،کویت ،اومان ،قطر ،سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔کویت میں ایک کویتی شہری سمیت متعدد ایرانیوں کو تہران کے لیے جاسوسی کے الزامات میں مجرم قرار دے کر سزائیں دی جاچکی ہیں جبکہ بحرین اور سعودی عرب نے حال ہی میں ایران کے جاسوسی کے نیٹ ورکس کو بے نقاب کرنے کا انکشاف کیا ہے۔

بحرین نے گذشتہ سوموار کو حزب اختلاف کے گروپوں پر حزب اللہ کے ساتھ ہر طرح کے روابط رکھنے پر پابندی عاید کردی تھی۔گذشتہ ماہ بحرین نے حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا تھا۔اس نے لبنانی تنظیم پر الزام عاید کیا تھا کہ وہ بحرین سے تعلق رکھنے والے اہل تشیع کو حکومت کے خلاف محاذ آراء کرنے کے لیے تربیت دے رہی ہے۔

بحرین پہلا عرب ملک ہے جس نے لبنانی تنظیم کو دہشت گرد قرار دیا تھا۔سعودی عرب اور دوسری خلیجی ریاستیں حزب اللہ کے اتحادی ملک ایران پر اپنے داخلی امور میں مداخلت کے الزامات عاید کرتے رہتے ہیں لیکن ایران اس الزام کی تردید کرتا چلا آرہا ہے۔واضح رہے کہ حزب اللہ اور ایران اس وقت شام میں باغی جنگجوؤں کے مقابلے میں صدر بشارالاسد کی کھلم کھلا جنگی ،سفارتی ،سیاسی اور اخلاقی حمایت کررہے ہیں اور شیعہ ملیشیا کے جنگجو شامی فوج کے شانہ بشانہ وسطی قصبے القصیر اور دوسرے علاقوں میں باغیوں کے خلاف لڑرہے ہیں۔