حزب اللہ کے جنگجو شام کا دفاع نہیں کر سکتے: بشار الاسد

"جنیوا کانفرنس کے فیصلوں پر عملدرآمد عوامی ریفرنڈم سے مشروط ہے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شامی صدر بشار الاسد کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کے جنگجو شام کا دفاع نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ القصیر معرکے میں حزب اللہ جنگجووں کی شرکت شام پر اسرائیلی حملے کے بعد عمل میں آئی ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے حزب اللہ کے زیر انتظام چلنے والے 'المنار' سیٹلائیٹ ٹی وی چینل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

بشار الاسد نے کہا کہ مسلح افواج کے کمانڈر انچیف اور جوڈیشل اتھارٹی کے سربراہ کے طور پر وہ اپنے اختیارات خود نہیں چھوڑ سکتے۔ اس مقصد کے لئے دستوری ترمیم درکار ہو گی جس کی بعد میں ایک عوامی ریفرنڈم کے ذریعے توثیق ہونا ضروری ہے۔

شامی مسئلے کے حوالے سے جنیوا میں ہونے والی متوقع کانفرنس میں شرکت سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے بشار الاسد نے کہا کہ اس میں ہماری شرکت کسی پیشگی امر سے مشروط نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانفرنس میں شرکت کے بعد اگر کسی فیصلے پر عملدرآمد ہونا ہو گا تو اس کے لئے شامی عوام کی رائے بذریعہ ریفرنڈم جاننا ضروری ہو گا۔

اقوام متحدہ کہ چکا ہے کہ شامی بحران کے حوالے سے مجوزہ بین الاقوامی کانفرنس کا تیاری اجلاس آئندہ ہفتے جنیوا میں ہو گا۔

شام کو حال ہی میں ملنے والے دفاعی میزائلوں سے متعلق سوال کے جواب میں بشار الاسد کا کہنا تھا کہ روس کے ساتھ اسلحہ خریداری کا معاہدے کا شامی بحران سے نہیں ہے۔ میزائل خریداری معاہدے ہم نے بہت پہلے کئے تھے، ان میزائلوں کی ترسیل حال ہی میں شروع ہوئی ہے۔ روس، تمام صورتحال سے بے نیاز ہو کر معاہدے کے مطابق شام کو اسلحہ فراہمی جاری رکھے گا۔

خیال رہے کہ روس نے اس ہفتے کے آغاز میں شام کو ایس 300 میزائیل بھجوانے کے ارادے پر عملدر آمد جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا۔

یہ میزائل ایک بہترین فضائی دفاعی نظام بناتے ہیں جن کی مدد سے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل داغے جاتے ہیں جو جنگی جہاز گرا سکتے ہیں اور بیلاسٹک میزائل بھی روک سکتے ہیں۔

شامی لڑائی میں حزب اللہ کے کردار پر بات کرتے ہوئے بشار الاسد نے کہا کہ لبنان کی شیعہ ملیشیا شام کا دفاع نہیں کر رہی۔ انہوں نے بتایا کہ حزب اللہ کے جنگجووں نے القصیر کے معرکے میں اس وقت شمولیت اختیار کی جب اسراائیل نے ایک مشتبہ قافلے کو نشانہ بنایا کہ جو مبینہ طور پر حزب اللہ کے لئے اسلحہ لیکر لبنان جا رہا تھا۔

صدر بشار الاسد کا کہنا ہے کہ شام میں جاری تنازع میں حالیہ کامیابیوں کے بعد طاقت کا توازن اب شامی فوج کے حق میں ہے۔ بشار الاسد نے مزید کہا کہ اس پر بہت زیادہ عوامی دباو ہے کہ وہ اسرائیل کے زیر قبضہ گولان کی پہاڑیوں میں محاذ کھول دیں،

یاد رہے کہ اسرائیل نے 1967 کی جنگ کے بعد سے گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کر رکھا ہے اور اس نے سنہ 1981 میں اس علاقے کو اپنی عمل داری میں شامل کرلیا جسے عالمی سطح پر تسلیم نہیں کیا جاتا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں