.

بحرینی دارلحکومت میں بم دھماکے کے ملزمان گرفتار

گرفتاری گھر پر چھاپے کے دوران عمل میں آئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بحرینی وزارت داخلہ نے گزشتہ دنوں دارالحکومت منامہ کے مغربی قصبے بنی جمرہ میں ہونے والے دھماکے میں ملوث ایک نیٹ ورک کو گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے۔ اس دھماکے میں مقامی ساختہ بم پھٹنے سے سات پولیس اہلکار زخمی ہوگئے تھے جن میں سے ایک کی ٹانگ بھی کاٹنا پڑی تھی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو موصول ہونے والے وزارت کے بیان کے مطابق متعلقہ سکیورٹی فورسز اس دہشت گردی کے واقعے کے فورا بعد جائے وقوعہ پر پہنچ گئی تھیں اور انہوں نے رات ساڑھے دس بجے گاؤں کے داخلی راستے پر جلتے ہوئے ٹائرز ملے، جیسے ہی سکیورٹی اہلکار جلتے ہوئے ٹائرز کی آگ بجھانے میں مصروف ہوئے مقامی ساختہ بم پھٹنے سے دھماکہ ہوگیا جس سے تین سکیورٹی اہلکار شدید زخمی ہوئے جبکہ چار کو درمیانے درجے کے زخم آئے۔

اس واقعے کی تحقیقات کے لیے سکیورٹی اداروں کی ایک جوائنٹ کمیٹی تشکیل دیدی گئی جس نے اپنے کام کا آغاز کردیا، سکیورٹی فورسز نے دھماکےمیں ملوث ہونے کے الزام میں دس مشتبہ افراد کو گرفتار کرلیاہے، اس کارروائی کے لیے ملزمان کی ملاقاتوں، منصوبہ بندی اور سٹور کے طور پر استعمال ہونے والے گھر پر چھاپہ مارا گیا اور ان دہشت گردوں کو گرفتار کرلیا گیا۔ گرفتار افراد میں سے بعض نے اس کارروائی میں ملوث ہونے کا اعتراف بھی کرلیا ہے جن میں ضیاء محمد علی احمد کی عمر 23 سال، محمد جعفر محمد مھدی کی عمر اٹھارہ سال۔ علی احمد ابراھیم علی کی عمر انیس سال اور حسین علی محمد فردان کی عمر انیس سال ہے۔

یاد رہے کہ بنی جمرہ قصبہ پر شیرازی خاندان کا اثرورسوخ ہے، شیرازی خاندان کو ایران کی مکمل حمایت حاصل ہے، اس قصبے میں شیرازی خاندان کے خلاف 14 فروری کی دہشت گردی کی کارروائی بھی ہوئی تھی۔ یہ علاقہ بحرین کی ریڈیکل جماعتوں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے اور یہاں پر جدید اسلحے کے استعمال اور مقامی ساختہ بم پھٹنے کے واقعات بھی ہوتے رہتے ہیں۔

اسی قصبے سے 24 مئی 2013 کو ایک خطرناک دہشت گردی کی کارروائی میں ملوث رضا عبد اللہ الغسرہ کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کے قبضے سے آٹومیٹک اسلحہ اور گولیاں بھی برآمد ہوئی تھیں۔ وہ 14 فروری 2013 کو ایک کار کو مقامی ساختہ بم دھماکے سے اڑانے سمیت متعدد کارروائیوں میں مطلوب تھا۔ یہاں سے گرفتار ہونے والے ایک اور جرائم پیشہ شخص کا نام احمد عبد الرووف جعفر ہے جس کے قبضے سے کلاشنکوف اور دیگر جدید اسلحہ برآمد ہوا تھا۔

بحرین حکومت کی جانب سے لبنانی تنظیم حزب اللہ سے لین دین پر پابندی کے بعد پولیس کو ایسے واقعات کی پہلے سے توقع تھی، علاقے میں حزب اللہ کے قریب سمجھی جانے والے جماعتوں کا بھی دفتر موجود ہے

ذرائع کے مطابق سکیورٹی اہلکاروں نے اپنی تحقیق کا دائرہ بڑھا دیا ہے جیسا کہ گرفتار ہونے والے افراد کے اعترافات سے معلوم ہوا ہے کہ اس قصبے میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث دیگر افراد بھی موجود ہیں۔ گرفتار افراد کو عدالتوں کے سامنے پیش کرنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ ادھر سکیورٹی فورسز نے مزید کسی بھی دھماکے سے بچنے کے لیے سکیورٹی انتظامات سخت کر دیے ہیں۔

یاد رہے کہ بنی جمرہ سے گرفتار ہونے والے افراد، جن پر بحرینی وزارت داخلہ نے دہشت گردی اور دیگر جرائم میں ملوث ہونے کا الزام لگایا ہے، کا تعلق شیعہ اپوزیشن تنظیم الوفاق سے ہے۔ الوفاق تنظیم کے گرفتار کیے جانے والے سب سے آخری کارکن رضا عبد اللہ الغسرہ ہیں جن کی گرفتاری پر الوفاق شیعہ اپوزیشن کے سیکرٹری جنرل شیخ علی سلمان علی نے الزام عائد کیا تھا کہ انہیں بلاوجہ گرفتار کیا گیا ہے۔