.

علامہ قرضاوی کی بشار الاسد اور حزب اللہ کے خلاف 'جہاد' میں شرکت کی تلقین

شامی انقلابیوں کو سرکاری فوج کی بڑھتی کارروائیوں کا سامنا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالم اسلام کے معروف اسکالر شیخ یوسف القرضاوی نے کہا ہے کہ سنی فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد شیعہ صدر بشار اسد کی حکومت کے خلاف جاری جنگ میں باغیوں کا ساتھ دیں۔ ادھرالقصیر میں شامی فورسز اور باغیوں کے مابین جاری لڑائی میں شدت آتی جا رہی ہے۔

قطر میں مقیم مصری نژاد عالم دین شیخ یوسف القرضاوی کے حوالے سے بتایا ہے کہ انہوں نے بالخصوص مشرق وسطیٰ میں سکونت پذیر سنی مسلمانوں پر زور دیا ہے کہ وہ شام میں شیعہ حکومت کے خلاف جاری ’جہاد‘ میں حصہ لیں۔

الشیخ القرضاوی کی ویب سائٹ کے بہ قول، ’’ہر وہ شخص جو جہاد کی استطاعت رکھتا ہے اور لڑ سکتا ہے، وہ شام جا کر ان لوگوں کا ساتھ دے، جو حکومت کی طرف سے جاری کارروائیوں میں مارے جا رہے ہیں۔‘‘ اس بیان میں انہوں نے حزب اللہ کو ’شیطانوں کی جماعت‘ قرار دیا ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ ایران نواز شیعہ جنگجو حزب اللہ نے اعتراف کیا ہے کہ وہ شامی صدر کی حامی افواج کے ساتھ مل کر باغیوں کے خلاف لڑ رہی ہے۔

مشرق وسطیٰ میں ناقدین اور مبصرین سنی فرقے سے تعلق رکھنے انتہائی مقبول مذہبی رہنما شیخ یوسف القرضاوی کے اس بیان کو شیعہ سنی فرقہ ورانہ تقسیم کے حوالے سے دیکھا جا رہا ہے۔ مسلمان اسکالرز کی بین الاقوامی فیڈریشن کے چیئرمین شیخ یوسف القرضاوی ’عرب اسپرنگ‘ کے خاص اور نمایاں حامیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ علامہ القرضاوی فلسطین میں فدائی حملوں کے جواز کا فتوی دینے کی وجہ سے بھی عالم اسلام میں انتہائی مقبول ہیں اور وہ حال ہی میں غزہ کا دورہ بھی کر چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق شام میں گزشتہ دو برس سے جاری بحران کے نتیجے میں کم ازکم 80 ہزار افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ شامی بحران کے دوران جہاں ایران مبینہ طور پر بشار الاسد کا ساتھ دے رہا ہے، وہیں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ قطر اور علاقائی سطح پر ’سنی پاور ہاؤس‘ سعودی عرب باغیوں کی مدد کر رے ہیں۔ القرضاوی نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ خدا ایسے لوگوں پر اپنا غضب اور لعنت بھیجے گا، جو شامی صدر بشار الاسد کا ساتھ دے رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ شامی عوام حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کے خلاف سرخرو ہوں گے۔ انہوں نے سنی مسلمانوں پر زور دیا ہے کہ وہ شام جائیں اور وہاں کے عوام کا تحفظ یقینی بنائیں۔

القصیر لڑائی میں تیزی

شامی حکومت کی افواج نے ہفتے کے دن القصیر نامی علاقے میں جاری لڑائی میں ایک اہم علاقے کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ لبنان کی سرحد کے قریبی علاقوں میں جاری اس لڑائی میں تیزی آ گئی ہے۔ ادھر لندن میں شامی آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے کہا ہے کہ شامی فورسز کو حزب اللہ کے جنگجوؤں کی بھرپور حمایت حاصل ہے اور وہ القصیر میں باغیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ شامی فورسز گزشتہ دو ہفتوں سے القصیر کا مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے لیے عسکری کارروائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

آبزرویٹری کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے اس مخصوص صورتحال میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ القصیر میں پھنس کر رہ جانے والے شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری طور پر ایکشن لے۔ بتایا جا رہا ہے کہ وہاں شہریوں کی ایک بڑی تعداد زخمی ہو چکی ہے جب کہ بنیادی اشیائے ضروریات کے فقدان کی وجہ سے انسانی المیے کا خطرہ شدید ہوتا جا رہا ہے۔ دریں اثنا ء اقوام متحدہ نے القصیر میں جاری لڑائی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہاں کم ازکم پندرہ سو افراد زخمی حالت میں ہیں، جن کو فوری طبی امداد کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ نے اطراف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس علاقے میں فوری طور پر فائر بندی پر متفق ہو جائیں تاکہ وہاں امداد پہنچائی جا سکے۔