.

مصر:شوریٰ کونسل اور دستورساز پینل کالعدم قرار

عدالت عظمیٰ نے دونوں کی تشکیل سے متعلق قانون کو غیرآئینی قرار دے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی دستوری عدالت عظمیٰ نے پارلیمان کے ایوان بالا شوریٰ کونسل اور آئین مرتب کرنے والے پینل کو غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کر دیا ہے۔

عدالت نے اتوار کو اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ شوریٰ کونسل کی تشکیل کے لیے وضع کردہ قانون غیر آئینی ہے اور اسی طرح آئین مرتب کرنے والی کمیٹی کی تشکیل کے لیے قواعد وضوابط بھی غیر آئینی تھے۔

عدالت کے صدر جج ماہرالبحیری نے قرار دیا ہے کہ ایوان بالا یا شوریٰ کونسل کو نئی پارلیمان کے انتخاب تک برقرار رہنا چاہیے لیکن اس کو قانون سازی کا کوئی اختیار نہیں ہوگا۔

اس اہم فیصلے کے اعلان سے قبل قاہرہ کے جنوبی علاقے میں واقع سپریم آئینی عدالت کی عمارت کو پولیس نے گھیرے میں لے لیا تھا تاکہ صدر محمد مرسی اور ان کے مخالفین کے درمیان کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہ ہو۔عمارت کے نزدیک پولیس کے پندرہ ٹرک کھڑے کیے گئے تھے۔

دستوری عدالت عظمیٰ میں متعدد وکلاء نے شوریٰ کونسل کے ارکان کے انتخاب سے متعلق قانون کو چیلنج کیا تھا۔واضح رہے کہ مصر کی پارلیمان کے ایوان زیریں اور ایوان بالا دونوں کا انتخاب2011ء میں اس قانون کے تحت کیا گیا تھا لیکن ایک انتظامی عدالت نے گذشتہ سال اس قانون کو کالعدم قرار دے دیا تھا جس کے بعد عوامی اسمبلی تحلیل ہوگئی تھی۔

انتظامی عدالت نے ملک کے نئے دستور کی تیاری کے لیے قائم کی گئی ایک سو ارکان پر مشتمل اسمبلی (کونسل) کی تحلیل سے متعلق کیس کو حتمی فیصلے کے لیے سپریم آئینی عدالت کو بھیج دیا تھا اور اس نے انتظامی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔

اس اسمبلی کی ہئیت ترکیبی اور اس کے ارکان کے انتخاب کے طریق کار کو انتظامی عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا۔ سابق صدر حسنی مبارک کی فروری 2011ء میں رخصتی کے بعد ملک کا نیا دستور مرتب کرنے کے لیے آئینی اسمبلی کو دو مرتبہ تشکیل دیا گیا تھا لیکن اس کو دونوں مرتبہ تحلیل ہونا پڑا ہے۔

اس سے پہلے اپریل 2012ء میں تشکیل کی گَئی اسمبلی کو معاشرے کے تمام طبقات کی نمائندہ نہ ہونے کی وجہ سے تحلیل کردیا گیا تھا۔اس میں اسلام پسندوں کو بالادستی حاصل تھی اور اس وجہ سے بھی مصر کے لبرل طبقات نے اس کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔