.

بشار الاسد کے دباؤ نے ہمیں شام سے بیدخلی پر مجبور کیا: خالد مشعل

شامی بحران پر اصولی موقف کی سزا، ایران نے ماہانہ 22 ملین ڈالرز امداد روک دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پولٹ بیورو اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کے سربراہ خالد مشعل نے انکشاف کیا ہے کہ ان کی تنظیم بشار الاسد کے دباؤ کی وجہ سے شام چھوڑنے پر مجبور ہوئی۔

حماس کے رہنما خالد مشعل نے کہا کہ انہوں نے بشار الاسد کو مشورہ دیا تھا کہ اس بحران سے عسکری طریقے سے نمٹنا غلط ہے جس سے معاملات مزید پیچیدہ ہوجائیں گے لہذا معاملے کا سیاسی حل نکالا جائے مگر اسدی حکومت حماس کے اس مشورے سے خوش نہیں تھی۔ انہوں نے حماس کی جانب سے شامی باغیوں کے ساتھ کسی قسم کے تعاون کی بھی نفی کی اور کہا کہ حماس شام کے معاملات میں مداخلت نہیں کر رہی البتہ شامی قوم کی آزادی اور حقوق کے حصول کی حمایت کرتی ہے۔

خالد مشعل نے بتایا کہ شامی بحران کے بارے میں حماس کے اسی موقف کی وجہ سے تہران نے حماس کو دی جانے والی اپنی امداد روک لی، خالد مشعل کا کہنا تھا کہ اپنے مبنی بر انصاف موقف کی وجہ سے حماس کو ایران سے ملنے والی 22 ملین ڈالرز ماہانہ امداد سے محروم ہونا پڑا ہے۔

مزید برآں حماس اور تہران کے درمیان تعلقات کی اس خرابی سے طرفین کے درمیان عسکری تعاون بھی ختم ہوگیا ہے اس سے قبل ایران حماس کو اسلحہ کی ترسیل، فنی مہارت اور جنگی تربیت فراہم کرتا تھا۔ یہ سلسلہ بھی اب ختم ہو گیا ہے۔ حماس حکومت کے وزارت خارجہ غازی حمد وکیل نے بھی حماس اور ایران کے درمیان تعلقات کو ’’خراب‘‘ قرار دیا ہے۔