.

حسن روحانی کے جلسے میں موسوی کی تصاویر لہرانے والے 07 افراد گرفتار

صدارتی امیدوار کے حامیوں کو قانون کے احترام اور صبر سے کام لینے کی ہدایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی کے معتدل سمجھے جانے والے صدارتی امیدوار حسن روحانی کے ایک جلسے اپوزیشن لیڈر میر حسین موسوی کی تصاویر لہرانے پر 07 افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔

مقامی میڈیا کے مطابق حسن روحانی کی انتخابی مہم کے دوران شمالی تہران میں واقع مسجد جمران میں ایک تقریب کے دوران کئی افراد کو گرفتار کیا گیا۔ دوسری جانب اپوزیشن کی ویب سائٹ ’’کالمی ڈاٹ کام‘‘ نے دعوی کیا ہے کہ اس جلسے میں گرفتار افراد کی تعداد 07 ہے، جنہیں 'ایون' جیل منتقل کردیا گیا ہے۔

میر حسین موسوی نے سال 2009 کے صدارتی انتخابات میں محمود احمدی نژاد کے دوبارہ منتخب ہونے کے خلاف مہم کی قیادت کی تھی۔ انہیں دو سال سے جبری قید میں رکھا گیا، جس سے اصلاح پسندوں کی عسکری قوت میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔

حسن روحانی کے دفتر کی جانب سے جاری ایک بیان میں کسی بھی غیر مناسب اقدام کی شدید مذمت کی گئی ہے، بیان میں حسن روحانی نے تمام لوگوں سے قانون کا احترام کرنے اور صبر کا دامن تھامتے ہوئے امن کو بحال رکھنے کی تلقین بھی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کی حرکتیں اعتدال پسندی کے زمرے نہیں آتیں اور ان کا فائدہ دشمن کو ہی ہوتا ہے۔

خیال رہے کہ حسن روحانی ایران کے مصلح اور سابق صدر محمد خاتمی کے انتہائی قریب سمجھے جاتے ہیں۔ وہ 2003 اور 2005 میں ایران کے جوہری پروگرام کے مذاکراتی عمل کا حصہ رہے۔ چودہ جون کو ہونے والے ایرانی صدارتی انتخابات میں انہیں اصلاح پسند اور معتدل ووٹرز کے ووٹ ملنے کی توقع ہے جس کی وجہ سیاسی طور پر حسن روحانی کے قریب سمجھے جانے والے سابق معتدل صدر اکبر ھاشمی رفسنجانی کو صدارتی دوڑ سے باہر کردینا ہے۔