.

شام:القاعدہ کے زیرانتظام الرقہ میں محکمہ شکایات کا قیام

شہریوں کو کسی بھی فوجی یا امیر کے خلاف شکایت پر درخواست دینے کی ہدایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

القاعدہ نے شام کے شمال مشرقی شہر الرقہ کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد وہاں لوگوں کے مسائل کے ازالے کے لیے محکمہ شکایات قائم کردیا ہے۔

برطانوی اخبار ڈیلی ٹیلی گراف میں سوموار کو شائع شدہ ایک رپورٹ کے مطابق جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کی شاخ نے شہر میں ایک عوامی نوٹس جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی شہری کو ریاست اسلامی کے کسی عنصر ،خواہ وہ امیر ہو یا عام فوجی، کے خلاف کوئی عذرداری ہو تو وہ اس کی کسی بھی ہیڈ کوارٹرز میں شکایت دائر کرسکتا ہے''۔

اس نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ''شکایت تحریری ہونی چاہیے،اس میں شواہد کے ساتھ مکمل تفصیل ہو''۔اس میں وعدہ کیا گیا ہے کہ ''کسی بھی خلاف ورزی کے مرتکب کا احتساب یقینی بنایا جائے گا اور اس کا کیس عراق اور الشام کی شرعی عدالتوں میں بھیجا جائے گا''۔

اس نوٹس پر الرقہ میں القاعدہ کے امیر کے دستخط ہیں۔القاعدہ اور اس کے حامی باغی جنگجوؤں نے دو ماہ قبل الرقہ پر قبضہ کرلیا تھا۔شام کے کسی صوبے کا یہ پہلا دارالحکومت تھا جہاں باغی جنگجوؤں نے صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کو نکال باہر کیا تھا اور اب انھوں نے وہاں اپنا نظم ونسق قائم کر لیا ہے۔

واضح رہے کہ القاعدہ کے ماتحت لیڈروں کی تنظیم کے اندر کڑی نگرانی کی جاتی ہے اور اگر وہ کسی غلط روی کے مرتکب ہوں تو ان کی سخت سرزنش کی جاتی ہے۔اس کی حال ہی میں افریقی ملک مالی سے ملنے دستاویزات سے بھی تصدیق ہوئی ہے۔

مالی کے تاریخی شہر ٹمبکٹو میں فرانس کی مدد سے سرکاری فوج کے قبضے کے بعد ایک مکان سے دیگر دستاویزات کے علاوہ ایک خط بھی ملا تھا۔اس خط میں اسلامی مغرب میں القاعدہ کی شوریٰ کونسل نے شمالی افریقہ میں گوریلا لیڈر مختار بالمختار پر کڑی تنقید کی ہے اور ان پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ اپنے اخراجات کا حساب کتاب دینے میں ناکام رہے تھے۔اس کے علاوہ وہ القاعدہ کی قیادت کو فون پر باقاعدہ جواب دینے یا ان کی ہدایات کے مطابق حملے کرنے میں بھی ناکام رہے تھے۔