.

صدرمرسی کی جماعت دستوری عدالت کے اختیارات محدود کرنے کو تیار

عدالت کے آئینی اداروں کی تحلیل سے متعلق اختیارات ختم کرنے پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی حکمراں آزادی اور انصاف پارٹی (ایف جے پی) دستوری عدالت عظمیٰ کے اختیارات کو محدود کرنے پرغور کررہی ہے۔

یہ بات جماعت کے نائب صدر اسلام العریان نے لندن سے شائع ہونے والے روزنامے الحیات کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہی ہے۔انھوں نے سوموار کو شائع ہونے والے اس انٹرویو میں کہا کہ ''قانونی اور آئینی ماہرین دستوری عدالت عظمیٰ کے اختیارات کو محدود کرنے اور اس کی جانب سے عاید کردہ رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے اقدامات پر غور کررہے ہیں''۔

تاہم العریان نے ان اقدامات کی تفصیل نہیں بتائی۔البتہ اخوان المسلمون کے ایک ذریعے نے اخبار کو بتایا کہ متوقع تبدیلیوں کے تحت سپریم دستوری عدالت کے آئینی اداروں کو تحلیل کرنے کے سے متعلق اختیارات ختم کردیے جائیں گے۔

اس ذریعے نے یہ نہیں بتایا کہ آیا یہ مجوزہ ترامیم عدالت کی جانب سے فوج اور پولیس کو ووٹ کا حق دینے کے ردعمل میں کی جارہی ہیں کیونکہ اسلامی جماعت کو خدشہ ہے کہ اس اقدام سے ملک کی سکیورٹی کو نقصان پہنچے گا۔اخوان المسلمون اور دوسری جماعتیں سکیورٹی اداروں کو ووٹ کا حق دینے کی مخالفت کررہی ہیں۔اس کی ایک بڑی وجہ فوج کا تاریخی کردار ہے اور وہ ماضی میں اسلامی جماعتوں کو دباتی رہی ہے۔

مصر کی دستوری عدالت عظمیٰ نے اتوار کو پارلیمان کے ایوان بالا شوریٰ کونسل اور آئین مرتب کرنے والے پینل کو غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کر دیا تھا اوراپنے فیصلے میں کہا تھا کہ شوریٰ کونسل کی تشکیل کے لیے وضع کردہ قانون غیر آئینی ہے اور اسی طرح آئین مرتب کرنے والی کمیٹی کی تشکیل کے لیے قواعد وضوابط بھی غیر آئینی تھے۔

عدالت کے صدر جج ماہرالبحیری نے قرار دیا کہ ایوان بالا یا شوریٰ کونسل کو نئی پارلیمان کے انتخاب تک برقرار رہنا چاہیے لیکن اس کو قانون سازی کا کوئی اختیار نہیں ہوگا۔

عدالت کے اس فیصلے کے باوجود صدر محمد مرسی کے دفترکی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ شوریٰ کونسل اس سال کے آخر میں پارلیمان کے ایوان زیریں قومی اسمبلی کے انتخاب تک اپنے اختیارات کو بروئے کار لاتی رہے گی۔

دستوری عدالت عظمیٰ میں متعدد وکلاء نے شوریٰ کونسل کے ارکان کے انتخاب سے متعلق قانون کو چیلنج کیا تھا۔واضح رہے کہ مصری پارلیمان کے ایوان زیریں اور ایوان بالا دونوں کا انتخاب2011ء میں اس قانون کے تحت عمل میں آیا تھا لیکن ایک انتظامی عدالت نے گذشتہ سال اس قانون کو کالعدم قرار دے دیا تھا جس کے بعد عوامی اسمبلی تحلیل ہوگئی تھی۔

انتظامی عدالت نے ملک کے نئے دستور کی تیاری کے لیے قائم کی گئی ایک سو ارکان پر مشتمل اسمبلی (کونسل) کی تحلیل سے متعلق کیس کو حتمی فیصلے کے لیے سپریم آئینی عدالت کو بھیج دیا تھا اور اس نے انتظامی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔