.

مصری صدر کا ہم شکل ہونا میرے لئے وبال بن گیا: رمضان السوھاجی

"محمد مرسی اور اپوزیشن رہنماؤں کو متحد ہونا چاہیے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری صدر ڈاکٹر مرسی کے ہم شکل شہری الحاج رمضان السوھاجی کا کہنا ہے کہ صدر مرسی کے ہم شکل ہونے کی وجہ سے وہ کئی مشکلات کا شکار ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے’’العربیہ الحدث‘‘ کے پروگرام ’’الحدث المصری‘‘ میں شرکت کی۔

ٹی وی پروگرام سے گفتگو کے دوران سوھاجی نے بتایا کہ ایک مرتبہ وہ صدر مرسی کی حمایت میں نکالے گئے ایک مظاہرے میں شریک ہوئے تو لوگوں نے مجھے مرسی سمجھا اور مجھے سٹیج پر جانے کے لیے مجبور کرنے لگے۔

رمضان سوھاجی نے پروگرام میں صدر مرسی کے بارے میں باتیں بھی کیں۔ انہوں نے بتایا کہ جیسا کہ عام لوگوں کا خیال ہے کہ صدر درگزر کا کام لیتے ہیں۔ اس چیز کا مشاہدہ میں نے سب سے پہلے اس وقت کیا جب صدر نے خود پر تنقید کرنے والوں اور اپوزیشن کی باتوں پر برداشت سے کام لیا اور کہا کہ ملک اس وقت اقتصادی زوال اور کساد بازاری کا شکار ہے۔

صدر مرسی کے ہم شکل نے زور دیا کہ بعض سیاسی حلقوں نے مجھے 30 جون کو صدر مرسی کو عہدہ صدارت سے ہٹانے کے مطالبات کے لیے نکالے جانے والے مظاہرے میں مجھے شرکت کرنے کا کہا ہے لیکن میں اس طرح کے مظاہروں میں شریک نہیں ہوں گا۔ اس موقع پر انہوں نے صدر مرسی، حمدین صباحی، عمرو موسی اور محمد البرادعی سے ملک کی ترقی کی خاطر اپنی صفوں میں اتحاد لانے کا مطالبہ بھی کیا۔

رمضان سوھاجی کی اہلیہ نے صدر مرسی کے ہم شکل کی بیوی ہونے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اپنے شوہر کی طرح وہ بھی صدر مرسی کی بھرپور حامی ہیں۔ سوھاجی العباسیہ کالونی میں الیکٹرک آلات کی فروخت کا کام کرتے ہیں اور صدر کے ساتھ اپنی مشابہت کی وجہ سے اس پورے علاقے کی سب سے مشہور شخصیت بن چکے ہیں۔

رمضان سوھاجی کو ہر روز عام لوگوں خوب پذیرائی دیتے ہیں، انہوں نے بتایا کہ روزانہ انہیں راہ چلتے یہ جملہ سننے کو ملتا ہے ’’خوش آمدید جناب صدر‘‘ متعدد بار لوگ میرے سامنے اپنی گاڑی روک لیتے ہیں اور نیچے اتر کر مجھ سے تصدیق کرتے ہیں کہ میں صدر مرسی تو نہیں ہوں۔

رمضان نے بتایا کہ ایک شخص نے مجھے انتخابات میں شرکت کے لیے استعمال ہونے والا فارم لا کر دیا اور کہا کہ تم انتخابات میں کھڑے ہو جاؤ۔ انہوں نے کہا کہ میرا بھی یہ خیال ہے کہ میرے اور صدر کے درمیان حقیقی مشابہت ہے، تاہم وہ انتخابات میں اس لیے شریک ہوئے ہیں کیونکہ وہ اعلی تعلیم یافتہ ہیں۔

رمضان سوھاجی عباسیہ کالونی میں گزشتہ چالیس سالوں سے الیکٹرک آلات کی فروخت کا کاروبار کر رہے ہیں، ان دنوں بہت سے شہری ان کی دکان پر انہیں مبارک باد دینے اور ان کے ساتھ تصاویر بنوانے کے لیے آتے ہیں۔ دوسری جانب صدر مرسی سے اختلافات رکھنے والے بہت سے لوگ اپنا غصہ رمضان سوھاجی پر اتار لیتے ہیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ بتاتے ہوئے سوھاجی نے کہا کہ ایک شخص میرے پاس کچھ خریدنے آیا مگر میری اور صدر مرسی کی شکلوں میں مشابہت کی وجہ سے اس نے مجھے سے خریداری سے انکار کردیا۔

انہوں نے کہا کہ متعدد بار تو صدر مرسی کے حامی بھی میرے لیے مشکل کا باعث بن جاتے ہیں، ایک مرتبہ میں نے اسلام پسندوں کی جانب سے صدر مرسی کی حمایت میں نکالے جانے والے مارچ میں شرکت کا فیصلہ کیا تو مظاہرین نے مجھے روک لیا، ان کا گمان تھا کہ صدر مرسی خود اس احتجاجی مظاہرے میں شریک ہیں اور انہوں نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر سکیورٹی پروٹوکول کو چھوڑ کر عام لباس پہن رکھا ہے۔

رمضان سوھاجی نے صدر مرسی کے حوالے سے مصری قوم کو صبر کا دامن تھامنے کی تلقین کی۔ انہوں نے صدر سے بھی اپیل کی کہ وہ مصری شاہراہوں پر موجود مصری تقسیم کو ختم کرنے کی مزید کوششیں کریں۔