.

العربیہ انسٹی ٹیوٹ برائے مطالعات کی ویب سائٹ کا اجراء

انسٹی ٹیوٹ حالات حاضرہ سے متعلق بروقت تحقیقی اور سائنسی مطالعہ پیش کرے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

العربیہ انسٹی ٹیوٹ برائے مطالعات نے منگل کو عربی اور انگریزی زبان میں اپنی الگ سے ویب سائٹ کا اجراء کر دیا ہے۔

العربیہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ''انسٹی ٹیوٹ حالات حاضرہ کے بارے میں بروقت گہرا تحقیقی مطالعہ پیش کرے گا اور وہ بنی نوع انسان کی اسٹوری سے لے کر سیاسی، ثقافتی اور سماجی پہلوؤں کا احاطہ کرے گا اور ان کی کوریج کرے گا''۔

العربیہ انسٹی ٹیوٹ ویژل میڈیا کے ذریعےعرب اور بین الاقوامی تحقیق کے میدان میں کام کرے گا۔ العربیہ ٹی وی چینل کے جنرل مینجر عبدالرحمان الراشد نے ایک بیان میں کہا ہے کہ 'عرب دنیا میں پہلی مرتبہ ویژل میڈیا اسٹڈی کو متعارف کرایا جا رہا ہے۔'

بیان کے مطابق اس پر ''ترکی علویس:جمعہ ہاؤسز سے الحلاج کے گھر تک'' پیش کیا جا رہا ہے۔ اس کو ڈیانا مخلد نے تیار اور ڈائریکٹ کیا ہے۔اس کے ساتھ ایک دستاویزی فلم ''ترکی علویس ، جمعہ کو گھروں کی سیر کرنے والے'' پیش کی جائے گی۔ یہ العربیہ نیوز چینل سے پیش کی گئی تھی۔

انسٹی ٹیوٹ مصر اور تیونس میں 2011ء میں برپا شدہ انقلابات کے بعد رونما ہونے والے واقعات کے بارے میں دستاویزی پروگرام بھی پیش کرے گا۔ اس کے علاوہ علائی بریشہ کی تیار کردہ دستاویزی فلم انقلاب کا موسم اور محمد الہادی الحناشی کی تیار کردہ فلم ''تیونس اور مشکل انتقال اقتدار'' پیش کی جائے گی۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ العربیہ کا یہ انسٹی ٹیوٹ العربیہ نیوز چینل اور مشرق وسطیٰ براڈ کاسٹنگ سنٹر (ایم بی سی) کے حصے کے طور پر گذشتہ ایک سال سے زیادہ عرصے سے کام کر رہا ہے۔ اس دوران اس نے اپنی مدر سائٹ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ذریعے بڑی تعداد میں سائنسی مطالعات پیش کیے ہیں۔