.

فرانس، برطانیہ نے شام میں سیرن گیس استعمال کی تصدیق کر دی

یو این کو کیمیائی ہتھیاروں کے ٹیسٹوں کے نتائج سے آگاہ کردیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ اور فرانس نے تصدیق کی ہے کہ شام میں اعصاب شکن زہریلی سیرن گیس کا استعمال کیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق سیرن گیس مقامی انداز میں متعدد مرتبہ استعمال کی گئی۔

گزشتہ روز فرانس کے بعد برطانیہ نے بھی تصدیق کی ہے کہ شام سے حاصل کردہ مختلف نمونوں کے تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ وہاں سیرن گیس کا استعمال کیا گیا ہے۔ دو مغربی طاقتوں کے اس دعوے کے بعد اب یہ سوال پیدا ہو گیا ہے کہ آیا شامی حکومت کی جانب سے سیرن کا استعمال امریکی صدر باراک اوباما کی متعین کردہ ’ریڈ لائن‘ پار کر جانے کے مترادف ہے یا نہیں۔

خیال رہے کہ امریکی صدر اوباما نے رواں برس شامی حکومت کو متنبہ کیا تھا کہ وہ اپنے عوام کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے سے باز رہے کیوں کہ ایسا ہوا تو امریکا اسے قبول نہیں کرے گا اور ایسی صورت میں وہ شام میں فوجی مداخلت کر سکتا ہے۔

فرانسیسی اور برطانوی دعووں کی بنیاد شام سے حاصل کردہ وہ نمونے ہیں، جنہیں سائنسی تجربہ گاہوں میں جانچا گیا ہے۔ اس سے قبل اقوم متحدہ کی ایک ٹیم نے بھی کہا تھا کہ ایسی ’مناسب وجوہات‘ موجود ہیں، جن کی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ شام میں ’کم سطح پر زہریلے کیمیائی مادوں‘ کا استعمال رواں برس مارچ سے اپریل کے دوران کم از کم چار مرتبہ ہوا ہے۔

قبل ازیں فرانسیسی وزیرخارجہ لوراں فابیئس نے کہا ہے کہ شام سے آنے والے کیمیائی نمونوں کے ٹیسٹوں کے بعد یہ بات یقینی ہوگئی ہے کہ وہاں زہریلی گیس سیرن کا استعمال کیا گیا ہے۔

انھوں نے منگل کو ایک بیان میں کہا ہے کہ فرانس نے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق ٹیسٹوں کے نتائج سے اقوام متحدہ کو آگاہ کردیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ''یہ بات بالکل ناقابل قبول ہے کہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے ذمے داروں سے کوئی بازپرس نہ ہو اور انھیں سزا کے بغیر ہی چھوڑ دیا جائے''۔

قبل ازیں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے تحقیقاتی کمیشن کے چیئرمین پاؤلو پنہیرو نے جنیوا میں نیوزکانفرنس میں بتایا کہ انھیں شامی حکومت کی جانب سے ممنوعہ ہتھیاروں کے استعمال کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔زہریلے کیمیکلز کے محدود پیمانے پر استعمال کے شواہد ملے ہیں اورانھوں نے ان ہتھیاروں سے متاثرہ شامی مہاجرین کے انٹرویوز کیے ہیں۔تاہم انھوں نے اس کی مزید تفصیل نہیں بتائی۔

اس کمیشن نے مارچ اور اپریل میں زہریلے کیمکلز کے چار حملوں کو رپورٹ کیا ہے لیکن یہ نہیں بتایا کہ یہ ممنوعہ ہتھیار کس فریق نے استعمال کیے تھے۔واضح رہے کہ شامی باغی اور فوج دونوں ہی ایک دوسرے پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے الزامات عاید کررہے ہیں۔