.

بھاری جانی نقصان کے بعد جیش الحر کا القصیر سے انخلاء

کئی ہفتوں کی لڑائی کے بعد شامی فوج کا شہر پر مکمل قبضہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے باغیوں نے لبنانی سرحد کے قریب القصیر قصبے پر بدھ کی شب شامی فوج اور حزب اللہ ملیشیا کے جنگجوٶں کے بڑے حملے کے بعد وہاں سے واپسی اختیار کر لی-

باغیوں کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس حملے میں سیکڑوں افراد مارے گئے ہیں- ادھر شامی حکومت نے باغیوں کے قصبے سے انخلاء کے بعد القصیر پر مکمل کنڑول حاصل کرنے کا دعوی کیا ہے- چند دن پہلے شامی فوج نے القصیر کے 70 فیصد رقبے پر کنڑول کا دعوی کیا تھا مگر اسے جیش الحر نے درست ماننے سے انکار کر دیا تھا-

شامی فوج اور لبنانی حزب اللہ ملیشیا پر مشتمل دستوں اور دوسری جانب جیش الحر کے جنگجوٶں کے درمیان حمص شہر کے قصبے القصیر میں شدید ترین لڑائی جاری ہے- شام کے سرکاری میڈیا سے القصیر پر مکمل قبضے کے دعوے نشر کئے جا رہے ہیں - جیش الحر یا شامی اپوزیشن کسی نے بھی ان دعووں کی تردید یا تصدیق نہیں کی ہے-

شامی آبزرویٹری کے مطابق شامی فضائی کے لڑاکا طیاروں نے القصیر پر اپنی بمباری ابھی بند نہیں کی، جس کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں نے شہر میں پھنسے ہوئے ہزاروں افراد کو مدد فراہمی کی اپیلیں جاری کیں کیونکہ مریضوں سے بھرے ہسپتالوں میں جان بچانے والی ادویہ اور ضروری طبی ساز و سامان انتہائی کمیاب ہے-

ادھر دمشق سے مقامی کوارڈی نیشن کمیٹیوں نے بتایا ہے کہ دارلحکومت کے جنوب میں واقع فلسطینی مہاجرین کے الیرموک کیمپ پر ہاون راکٹوں کی بارش کر دی- اسی علاقے میں بلدیہ دفتر کے قریب جیش الحر اور شامی فوجیوں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں- سرکاری فوج کی الحجر کالونی پر ہاون طرز کے راکٹوں کے بڑے حملے کی وجہ سے متعدد افراد علاقہ چھوڑ کر نسبتاً محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہو گئے ہیں-

دمشق کے نواحی علاقے بالخصوص معضمیہ الشام پر حملے میں سرکاری فوج نے ہر قسم کا توپخانہ، میزائل اور ٹینک استعمال کئے، جس کے بعد شہر کے جنوبی محاذ پر حزب اللہ کی حمایت یافتہ شامی فوج اور جیش الحر کے درمیان شدید جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں-