.

نیل پرایتھوپیا کے ڈیم سے نمٹنے کے لیے تمام آپشنز کھلے ہیں:مصر

ایتھوپیا سے ڈیم کی تعمیر بند کرنے کا مطالبہ کیا جائے گا:مشیر صدر مرسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے صدر محمد مرسی کے ایک مشیر نے خبردار کیا ہے کہ دریائے نیل پر ایتھوپیا کی جانب سے ڈیم کی تعمیر سے نمٹنے کے لیے تمام آپشن کھلے ہیں۔

مصری میڈیا کے مطابق صدر کے مشیر ایمن علی نے کہا ہے کہ ''یہ مصر کا حق ہے کہ وہ اپنے مفادات کا دفاع کرے۔دوسرے لوگوں کو اپنے مفادات کی پیروی کا حق حاصل ہے لیکن ایتھوپیا کی جانب سے ہمیں اس یقین دہانی کی ضرورت ہے کہ اس کے ڈیم سے مصر پر کوئی اثرات مرتب نہیں ہوں گے اوراگر ایسا ہوتا ہے تو پھر تمام آپشنز کھلے ہیں''۔

صدر کی خاتون مشیر پاکینم الشرکاوی کا کہنا ہے کہ ''مصر ایتھوپیا سے دریائے نیلا نیل پر ڈیم کی تعمیر بند کرنے کا مطالبہ کرے گا اور یہ مطالبہ ہمارا پہلا قدم ہوگا''۔انھوں نے کہا کہ ایوان صدر اس ڈیم کو مصر کے لیے قومی سلامتی کا ایک ایشو سمجھتا ہے۔

واضح رہے کہ مصر دریائے نیل کے پانی پر اپنا حق فائق سمجھتا ہے اوراس کا یہ موقف ہے کہ اس دریا کے پانی کو استعمال کرنے کا ترجیحی حق اسے ہی حاصل ہے۔ خود صدر محمد مرسی نے بھی اسی ہفتے کہا ہے کہ کسی دوسرے ملک کو دریائے نیل کے پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں دیا جائے گا۔

مصر میں بہنے والا دریائے نیل دراصل دو دریاؤں سے مل کر بنا ہے جو سات آٹھ افریقی ممالک سے بہتے ہوئے سوڈان میں داخل ہوتے ہیں اور اس کے دارالحکومت خرطوم کے نزدیک دریائے نیلا نیل دوسرے دریا سفید نیل میں مل جاتا ہے اور یہاں سے یہ دونوں دریائے نیل بن جاتے ہیں جو سیکڑوں میل کا سفر طے کرتا ہوا مصر میں داخل ہوتا ہے اور وہاں سے بحرمتوسط میں شامل ہو کر اپنا وجود کھو دیتا ہے۔

ایتھوپیا اب دریائے نیلا نیل پر''عظیم نشاۃ ثانیہ ڈیم'' تعمیر کررہا ہے۔اس مقصد کے لیے اس نے دریا کے قدرتی بہاؤ کا پانچ سو میٹر تک رخ موڑ دیا ہے۔پن بجلی پیدا کرنے کے اس منصوبے پرلاگت کا تخمینہ چار ارب بیس کروڑ ڈالرز لگایا گیا ہے۔ایتھوپیا کے اس ہائیڈرو الیکٹرک منصوبے کا پہلا مرحلہ تین سال میں مکمل ہوگا۔اس سے سات سو میگا واٹ بجلی پیدا ہوگی اور تمام ڈیم کی تکمیل کے بعد چھے ہزار میگا واٹ تک بجلی پیدا ہو سکے گی۔

یادرہے کہ چارافریقی ممالک روانڈا،ایتھوپیا، یوگنڈا اور تنزانیہ کے درمیان مئی 2010ء میں مصر اور سوڈان کی مخالفت کے باوجود دریائے نیل کے پانی کی برابری کی بنیاد پر تقسیم کا ایک معاہدہ طے پایا تھا۔تین اور افریقی ممالک کینیا ،برونڈی اور جمہوریہ کانگو نے بھی اس معاہدے کی حمایت کی تھی۔

اس معاہدے نے مصر اور سوڈان کے درمیان 1959ء میں طے پائے معاہدے کی جگہ لی تھی جس کے تحت ان دونوں ممالک کو دریائے نیل کے نوّے فی صد سے زیادہ پانی پر کنٹرول حاصل ہے۔

دریائے نیل کے بالائی جانب واقع ان سات افریقی ممالک میں سے ایتھوپیا آب پاشی اورپن بجلی کے لیے ڈیم کی تعمیر کے اس نئے منصوبے کو عملی جامہ پہنا رہا ہے لیکن مصر کو 1929ء میں نوآبادیاتی دور میں برطانیہ کے ساتھ طے شدہ معاہدے کے تحت ویٹو کا اختیارحاصل ہے اور وہ ایسے کسی بھی منصوبے کو مسترد کرسکتا ہے۔

مصر اور سوڈان ماضی میں اس خدشے کا اظہار کرچکے ہیں کہ اگرمذکورہ سات افریقی ممالک نے آب پاشی اور پن بجلی کے اپنے اپنے منصوبوں کے لیےدریائے نیل کے پانی کا رخ موڑدیا تو اس سے ان کے حصے کے پانی میں نمایاں کمی واقع ہوجائے گی۔