.

عرب لیگ کی شام میں حزب اللہ کے کردار کی مذمت

'عبوری کونسل میں بشار الاسد کا کوئی کردار نہیں ہو گا'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عرب لیگ کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر نبیل العربی نے شام میں لبنانی حزب اللہ کے جنگجوٶں کی القصیر میں مداخلت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

قاہرہ میں تنظیم کے وزراء خارجہ کے اجلاس میں منظور کی جانے والی قرارداد میں حزب اللہ سمیت شام میں ہر قسم کی غیر ملکی مداخلت کی شدید مذمت کی گئی۔شامی فوج اور لبنان میں صدر اسد کی حامی حزب اللہ نامی تنظیم نے تین ہفتوں کی خونریز لڑائی کے بعد اس شہر پر گزشتہ روز قبضہ کر لیا تھا۔

شامی مسلح افواج کے ایک کمانڈر نے اپنے بیان میں کہا ہے،'ہم اپنی فتح کا سلسلہ اُس وقت تک جار ی رکھیں گے جب تک ہم ملک کا ایک ایک انچ حصہ دوبارہ اپنے قبضے میں نہیں لے لیتے‘۔ ایسے ہی خیالات کا اظہار ایران نواز حزب اللہ کے جنرل سیکرٹری حسن نصر اللہ نے کیا ہے۔ بہ قول حسن نصراللہ، ان کی تنظیم شامی فوج کو فتح دلانے تک شامی جنگ میں شریک رہے گی۔

ادھر مصری صدر محمد مرسی کے مشیر برائے سلامتی امور عصام الحداد نے شام میں حزب اللہ کے کردار کو 'جرم اور غلطی' سے تعبیر کیا ہے۔

یاد رہے کہ خلیجی ریاست بحرین، عرب لیگ سے ایک قدم آگے بڑھ کر حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دے چکی ہے۔
عرب لیگ کے وزراء خارجہ کے اجلاس کا مقصد شام کے مسئلے پر متوقع امن کانفرنس کے سلسلے میں ایک مشترکہ موقف اختیار کرنا تھا جو شام کے لئے اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ نمائندے الاخضر الابراہیمی کے بہ قول جولائی میں منعقد ہو گی۔

عرب لیگ اجلاس میں منظور کی جانے والی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ مجوزہ بین الاقوامی امن منصوبے پر عملدرآمد کے وقت شام میں اقوام متحدہ کی امن فورس درکار ہو گی۔

قرارداد میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ سول جنگ کے مدمقابل فریق بشمول دمشق حکومت باہمی رضامندی سے عبوری حکومت تشکیل دے سکتے ہیں۔ تاہم مصری وزیر خارجہ محمد کمال عمرو کے مطابق بشار الاسد کا اس مجوزہ عبوری حکومت میں کوئی کردار نہیں ہو گا۔

ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عبوری کونسل مکمل طور پر با اختیار ہو گی اور بشار الاسد کا اس میں کوئی کردار نہیں ہو گا۔ ان کے تمام اختیارات بشمول دفاع اور سیکیورٹی عبوری مقتدرہ کو منتقل ہو جائیں گے۔