.

حزب اللہ مخالف طالب علم رہنما بیروت میں ایرانی سفارتخانے کے سامنے قتل

شام میں مداخلت کے خلاف دھرنا دینے والوں پر حزب اللہ کے حامیوں کا تشدد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ایرانی سفارت خانے کے نزدیک شیعہ تنظیم حزب اللہ کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جھڑپوں میں ایک نوجوان ہلاک ہوگیا ہے۔

لبنان کی ایک نیوز ویب سائٹ نہر نیٹ کی اطلاع کے مطابق حزب اللہ کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جھڑپوں میں گیارہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔مظاہرین نے ایرانی سفارت خانے کے نزدیک حزب اللہ کی شام میں مداخلت کے خلاف دھرنا دے رکھا تھا۔اس دوران شیعہ تنظیم کے حامیوں نے ان پر دھاوا بول دیا۔

لبنانی نیوز چینل لی بی سی آئی نے ایک نشریے میں بتایا ہے کہ جھڑپوں میں زخمی ہونے والے تمام افراد کا تعلق لبنان آپشن پارٹی سے ہے۔اس جماعت کے سربراہ چودہ مارچ اتحاد سے تعلق رکھنے والے شیعہ سیاست دان احمد اسعد ہیں۔جھڑپوں کے بعد لبنان کی مسلح افواج کے اہلکاروں نے علاقے کا محاصرہ کر لیا ہے۔

فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا کہ نوجوان کو کس نے ہلاک کیا ہے۔برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز کی اطلاع کے مطابق ہلاکت کے اس واقعہ کے وقت وہاں شامی صدر بشارالاسد کے حامی مسلح افراد موجود تھے۔

واضح رہے کہ لبنان نے پہلے تو شامی تنازعے کے حوالے سے غیر جانبدارانہ موقف اختیار کیے رکھا ہے لیکن حزب اللہ کے جنگجو اس وقت شام میں باغیوں کے مقابلے میں صدر بشارالاسد کی کھلم کھلا جنگی ،سفارتی ،سیاسی اور اخلاقی حمایت کررہے ہیں اور اب لبنانی وزیرخارجہ نے بھی اگلے روز کہہ دیا ہے کہ لبنان کے سرحدی علاقے کے نزدیک شامی فوج اور باغیوں کے درمیان لڑائی کے بعد صورت حال تبدیل ہوگئی ہے اور لبنانی سرحدی دیہات کے تحفظ کے لیے لاتعلق نہیں رہ سکتے ہیں۔

حزب اللہ کے جنگجو شامی فوج کے شانہ بشانہ وسطی قصبے القصیر اور دوسرے علاقوں میں باغیوں کے خلاف لڑرہے ہیں اور حال ہی میں القصیر میں شامی فوج کو ان کی بدولت ہی فتح حاصل ہوئی ہے۔

حزب اللہ کی قیادت میں لبنان کے اہل تشیع علوی فرقے سے تعلق رکھنے والے شامی صدر بشارالاسد کی حمایت میں باغیوں کے خلاف جنگ آزما ہیں تو لبنان کے اہل سنت شامی باغیوں اور حزب اختلاف کے حامی ہیں۔لبنان کے دوسرے بڑے شہر طرابلس میں گذشتہ ایک ماہ کے دوران اہل تشیع اور اہل سنت کے درمیان جاری جھڑپوں میں کم سے کم تیس افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔