.

حزب اللہ ملیشیا دمشق اور حلب کے مضافات میں پھیل گئی

ایران، شامی منظر نامے کو ہمسایہ ملکوں میں دہرانا چاہتا ہے: صبرا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی باغیوں پر مشتمل جیش الحر کے کمانڈر جنرل سلیم ادریس نے خبردار کیا ہے کہ حزب اللہ ملیشیا حلب کے مضافات سمیت دیر الزور اور دمشق کے نواح میں بھی تعینات کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ شامی فوج کو عراق، ایران اور لبنان سمیت دوسرے غیر ملکی جنگجوٶں کی باقاعدہ حمایت اور عملی تعاون حاصل ہے۔

ادھر شامی قومی اتحاد کے سربراہ جارج صبرا نے متنبہ کیا ہے کہ ایران چاہتا ہے کہ شام میں ہونے والے واقعات کو ہمسایہ ممالک کو متنقل کر دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور حزب اللہ کی قیادت میں شام میں غیر ملکی چڑھائی کے سامنے مسئلے کے پرامن حل کے تمام آپشن بند ہیں۔

جارج صبرا کے بہ قول واقعات کی حدت میں اضافے سے مسئلہ شام کے سیاسی حل کی کوششیں ہیچ نظر آتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی حملہ آوروں کے 'پھریرے' شامی مساجد اور کلیساٶں پر لہرائے جا رہے ہیں۔

اعصاب شکن گیس المسیفرہ میں سٹور

ایک ملتی جلتی پیش رفت میں شامی فوج اور جیش الحر کے درمیان جنوبی حلب کے المسیفرہ محاذ پر جاری لڑائی میں شدت آ گئی ہے۔ شامی باغیوں نے ایک اہم اسٹرٹیجک ٹھکانے پر حملے کی کوشش کی ہے جبکہ اسی دوران شامی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے المسیفرہ اور اس کے قریبی دیہات پر شدید گولا باری کی ہے۔

حلب کے نواح اور المسفیرہ میں واقع اہم دفاعی ٹھکانوں پر قبضے کے لئے اسٹرٹیجک لڑائی جاری ہے۔ جیش الحر نے گزشتہ چھے مہینوں نے جن اہم دفاعی مقامات کا محاصرہ کر رکھا ہے، ان کی اکثریت شام کی سرکاری فوج کو کمک پہچانے کا پہلا ذریعہ ہیں۔ انہی مقامات پر اسلحہ گودام ہیں۔ نیز زمین سے زمین تک مار کرنے والے میزائلوں کی بیس بھی محاصرہ زدہ علاقے میں ہی واقع ہے۔ غالب امکان ہے کہ یہ ٹھکانا سکڈ طرز کے میزائل داغنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔

اسی علاقے میں کیمیاوی اسلحہ ساز فیکڑیاں واقع ہیں۔ باوثوق ذرائع سے ملنے والی معلومات کے مطابق شامی حکومت نے اعصاب شکن سارین گیس کو اسی ٹھکانے میں سٹور کر رکھا ہے۔ اس ٹھکانے کو ائر ڈیفنس کی چار بیسز نے محفوظ بنا رکھا ہے۔