.

عراقی وزیراعظم کی کرد لیڈروں سے تنازعات طے کرنے کے لیے بات چیت

میرے اورکردعلاقائی صدرمسعود بارزانی کے پاس جادو کی چھڑی نہیں ہے:نوری المالکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی وزیراعظم نوری المالکی نے خودمختار کردستان کے ساتھ تیل اور زمین سے متعلق تنازعات طے کرنے کے لیے کرد لیڈروں سے بات چیت کی ہے۔

نوری المالکی دوسال سے زیادہ عرصے کے بعد کردستان کے علاقائی دارالحکومت اربیل پہنچے ہیں اور انھوں نے وہاں اتوار کو کردستان کی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کی ہے جس میں انھوں نے تنازعات کو طے کرنے کے لیے منتخب نمائندوں کے ساتھ تبادلہ خیال کیا۔

انھوں نے اس اجلاس کے بعد نیوزکانفرنس میں کہا کہ ''ان کے اور کردستان کے علاقائی صدر مسعود بارزانی کے پاس کوئی جادو کی چھڑی نہیں ہے جس سے کہ وہ تمام مسائل کو ایک لمحے میں حل کردیں۔البتہ اس ضمن میں ضروری ہے کہ ان مسائل کے حل کے لیے آمادگی کا اظہار کیا جائے''۔

اس موقع پر مسعود بارزانی نے کہا کہ ''کابینہ کا اجلاس تمام مسائل کے حل کی جانب نقطۂ آغاز ہے''۔واضح رہے کہ حالیہ مہینوں کے دوران کرد صدر اور وزیراعظم مالکی نے ایک دوسرے کے خلاف سخت بیانات جاری کیے تھے اور خاص طور پر مسعود بارزانی نے سخت لب ولہجہ اختیار کیا تھا۔

نوری المالکی نے اس سے پہلے آخری مرتبہ 2010 ء میں کردستان کا دورہ کیا تھا۔تب ان کی قیادت میں نئی حکومت کے قیام کے لیے شراکت اقتدار سے متعلق اربیل معاہدہ طے پایا تھا اور کردوں ،اہل سنت اور اہل تشیع کی جماعتوں نے کئی ماہ کی محاذ آرائی کے بعد وزیراعظم نوری المالکی کی قیادت میں قومی اتحاد کی حکومت کے قیام پر اتفاق تھا۔

لیکن اس معاہدے پر تب سے اب تک مکمل طور پر عمل درآمد نہیں ہوا ہے۔بغداد کی مرکزی حکومت اور کردستان کی علاقائی حکومت کے درمیان تیل نکالنے ،اس کی فروخت سے حاصل ہونے والے منافع،راہداری فیس، سرحدوں کے تعین اور علاقوں کی تقسیم سے متعلق بدستور اختلافات پائے جارہے ہیں۔

وزیراعظم نوری المالکی اور کرد لیڈروں کے درمیان بات چیت میں تنازعات کے حل کے حوالے سے کسی نمایاں پیش رفت کا امکان نہیں ہے۔کرد علاقائی حکومت کے خارجہ امور کے سربراہ فلاح مصطفیٰ نے ایک بیان میں کہا کہ ''ہمیں مذاکرات سے بہت بلند توقعات وابستہ نہیں کرنی چاہئیں۔اب گیند بغداد میں وفاقی حکومت کی کورٹ میں ہے''۔