.

حزب اللہ حقیقی اسلام کی نمائندہ جماعت نہیں: قرضاوی

الشیخ یوسف القرضاوی کا العربیہ ٹی وی کو خصوصی انٹرویو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انٹرنیشنل یونین آف مسلم اسکالرز کے سربراہ الشیخ یوسف القرضاوی کا کہنا ہے کہ شام میں جہاد 'لازم' ہو گیا ہے۔

'العربیہ' نیوز چینل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے شامی صدر بشار الاسد کی حمایت میں ایران اور روس کی مداخلت کو شدید ہدف تنقید بنایا۔ قطر کے دارلحکومت دوحہ میں اپنی رہائش گاہ پر الشیخ یوسف القرضاوی نے العربیہ کے اینکر پرس احمد الطویاں کو انٹرویو دیتے ہوئے وہ وجوہات بیان کیں جن کی بنا پر وہ سعودی علماء کے حزب اللہ مخالف موقف کی حمایت کر رہے ہیں۔

الشیخ یوسف القرضاوی نے کہا لبنان کی شیعہ تنظیم حزب اللہ نے اپنے عزائم سے پردہ ہٹا کر ثابت کر دیا ہے کہ وہ 'حزب الطاغوت اور شیطان' ہے۔ انہوں نے سعودی علماء کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہ قول شیخ قرضاوی 'اس تنظیم کے حوالے سے ان سے زیادہ صاحب بصیرت ثابت ہوئے۔'

علامہ یوسف القرضاوی نے شام میں رونما ہونے والے واقعات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہاں جو کچھ ہو رہا ہے وہ متعدد عرب ملکوں میں ہونے والے واقعات ہی کا پرتو ہے۔ شام میں جاری جدوجہد کا مرکز اور محور اپنے حقوق کا مطالبہ ہے اور شام کے انقلابی بھی دوسرے عرب ملکوں میں اپنے حقوق کی جدوجہد کرنے والوں کی طرح نہتے تھے لیکن وہاں کی حکومتوں نے ان سے گولی کے ذریعے بات کی۔

شام کے حوالے سے علامہ قرضاوی نے مزید کہا کہ بشار الاسد اپنے والد کی جگہ اقتدار سنبھال کر شام میں اپنے خاندانی اقتدار کی نصف سیچری مکمل کر چکے ہیں۔ اگر ملک میں جمہوریت ہوتی تو یہ خاندان اتنی دیر مسند اقتدار پر براجمان نہ رہتا۔
انہوں نے یہ بات زور دیکر کہی کہ شام میں جاری جدوجہد کو سمجھنے کی ضرورت ہے کیونکہ وہاں جیش الحر اپنے معمولی اسلحے کے ذریعے شامی حکومت کے زیر استعمال روسی مگ لڑاکا کا مقابلہ کر رہی ہے۔ 'شام میں صرف بشار الاسد کی حامی فوج نہیں بلکہ ایران، روس اور حزب اللہ بھی نہتے عوام کے خلاف جنگ میں صدر بشار کے دست و بازو ہیں۔"

عالم اسلام کے ممتاز دینی اسکالر نے کہا کہ شام میں حکومت اور حزب اللہ کے خلاف 'جہاد عین اسلامی تعلیمات کے مطابق جائز' ہے۔ ان کے بہ قول عامہ الناس اور دوسرے ملکوں پر شام میں جاری جہاد میں شرکت لازم ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمعرات کے روز انہوں نے مصری دارلحکومت قاہرہ میں مسلمان علماء کی ایک کانفرنس بلوائی ہے تاکہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے اور حقیقت واضح کی جا سکے اور پھر کانفرنس کے متفقہ موقف کی جمہور تک ترویج کی جا سکے۔

سعودی علماء کی بصیرت کا اعتراف

ماضی میں الشیخ یوسف القرضاوی کی جانب سے حزب اللہ کی حمایت سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں نے حزب اللہ کی اسرائیل کے خلاف جنگ میں تنظیم کا دفاع کرتے ہوئے سعودی علماء کی مخالفت کی تھٰی۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے علامہ قرضاوی کا کہنا تھا کہ میں اپنی رائے ظاہری اسباب کی بنا پر دے رہا تھا۔ میرا اس وقت بھی یہی کہنا تھا کہ اگرچہ حزب اللہ نے چند بدعتوں کا آغاز کیا ہے تاہم وہ مسلمان ہیں اور وہ امت اسلام سے اپنی وفاداری کو جوڑ رہے ہیں، تاہم بعد میں یہ عقدہ کھلا کہ میرا موقف غلطی پر مبنی تھا اور میرے ہم عصر سعودی علماء کا نقطہ نظر مبنی برحق تھا۔

علامہ قرضاوی نے مزید کہا کہ شاہ کا دور اقتدار ختم کر کے جب ایران میں خیمینی آئے تو ہمارا خیال یہی تھا کہ وہ ظلم کے مقابلے میں انصاف کے ساتھ کھڑے ہیں، تاہم بعد میں یہ بات واضح ہو گئی کہ وہ گمراہی پر تھے اور اصل بات لوگوں سے چھپا رہے تھے۔

انہوں نے ایران سمیت شیعہ مکتبہ فکر کی عرب امور بالخصوص خلیج میں مداخلت کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ "یہ سب کچھ ہڑپ کرنا چاہتے ہیں، یہ متحدہ عرب امارات کے جزائر، بحرین اور ہر امن پسند ملک کو نگلنا چاہتے ہیں۔"

انہوں نے عرب بادشاہوں سے اپیل کی وہ اس صورتحال کے پیش نظر شامی عوام کی مدد اور ان کا ساتھ دینے سے متعلق متحدہ موقف اپنائیں۔

یوسف القرضاوی نے کہا کہ غیر متعصب شیعہ حزب اللہ جیسے نہیں۔ وہ ایسے بہت سے اہل تشیع کو جانتے ہیں اور وہ ان کے دوست بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علوی، مسیحی اور دیگر مسالک اور ان کی نسلیں مسلمانوں کے نزدیک کئی صدیوں سے محترم چلے آ رہے ہیں۔

سعودی علماء سے تعلق کے بارے میں سوال پر علامہ یوسف القرضاوی نے کہا کہ میرے ان سے پرانے تعلقات ہیں، شاہ عبداللہ میرے دوست ہیں، ہمارے درمیان محبت اور حمایت کے سوا کوئی اور تعلق نہیں ہے۔