.

دمشق: دوہرے بم دھماکوں میں 14 افراد ہلاک: شامی ٹی وی

دھماکے دارلحکومت کے وسط میں اہم کاروباری مرکز میں ہوئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے دارلحکومت دمشق کے وسطی علاقے میں منگل کے روز ہونے والے دوہرے بم دھماکوں میں چودہ افراد ہلاک جبکہ 31 دوسرے زخمی ہو گئے۔

خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' نے سرکاری ٹی وی کے حوالے سے بتایا کہ "مریج اسکوائر میں ہونے والے بم دھماکے دہشت گرد خودکش بمباروں کی کارروائی ہیں۔"

سرکاری ٹی وی 'الاخباریہ' نے ان دھماکوں کی سب سے پہلے خبر دی اور بعد میں خون آلودہ فٹ پاتھ اور دھماکے میں بری طرح تباہ ہونے والی گاڑیوں کی فوٹیج تادیر الاخباریہ ٹی وی سکرین پر چلتی رہی۔

الاخباریہ کے نیوز اینکر نے دھماکے کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ "ایسا لگتا ہے کہ دہشت گردوں نے دوبارہ حملہ کیا ہے"۔ شام کے سرکاری حلقے بشار الاسد کی حامی فوج کے خلاف لڑنے والے باغیوں کو دہشت گرد نے نام سے موسوم کرتے ہیں۔

اسی علاقے میں اپریل کو ہونے والے بم دھماکے میں 13 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اہالیاں علاقہ نے دمشق کے وسط میں بڑی کاروباری مرکز مریج سکوائر میں پھیلنے والی تباہی کے مناظر بیان کئے جبکہ ٹی وی سکرین پر سابق وزارت داخلہ کی عمارت کی سامنے پھٹنے والے بم سے تباہ ہونے والی گاڑیوں کی فوٹیج چلائی جا رہی تھی۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق منگل کے روز ہونے والے دوہرے بم دھماکوں میں ستر افراد زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔ زخمیوں میں متعدد کی حالت خطرناک بتائی جاتی ہے۔

شام میں جاری لڑائی تیسرے برس میں داخل ہو چکی ہے اور اس میں گزشتہ مہینے اس وقت اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ جب سے سرکاری فوج باغیوں کی پیش قدمی روکنے کے لئے پہلے سے زیادہ سرگرم ہوئی۔