.

کویت میں ایرانی مصنوعات کے بائیکاٹ کی قومی مہم کا آغاز

مہم بشار الاسد کی حزب اللہ اور ایرانی تائید پر ردعمل کا اظہار ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کویت میں ایرانی اشیاء کے بائیکاٹ کی مہم کا آغاز کردیا گیا ہے۔ کویت کی متعدد کوآپریٹو سوسائٹیز نے ایرانی اشیا کو اپنے کاروبار کی فہرستوں سے نکالنے کا اعلان کردیا اور ایرانی اشیاء کو استعمال کرنے والی دیگر سوسائٹیز سے بھی اس مہم میں شرکت اور ایران سے مال درآمد کرنے والے ہر شخص کا بائیکاٹ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

کوآپریٹو سوسائٹی ’’بیان‘‘ کی ایگزیکٹو کونسل کے سربراہ یاسر الکندری نے بتایا کہ اس مہم کا ہدف ایرانی قیادت کو اپنے ہی عوام کے قتل عام میں مصروف شامی صدر کے ساتھ شرکت اور بھرپور تعاون کے معاملے پر نظر ثانی کے لیے مجبور کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران مسلح ونگ لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے ذریعے اسدی حکومت کی عسکری مدد کر رہا ہے اور شامی عوام کے قتل عام میں شریک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی اشیاء خریدنے پر خرچ ہونے والا ایک ایک ایک کویتی درھم، گولی بن کر شامی بھائیوں کی سینوں میں پیوست ہو رہا ہے۔

الکویت یونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسر عبد اللہ الشایجی کا کہنا تھا کہ کویت میں ایرانی اشیاء کے بائیکاٹ کی اس مہم کے اثرات محدود ہونگے کیونکہ یہاں پر ایرانی مصنوعات پہلے ہی تھوڑی تعداد میں ہیں تاہم اس سے ایران کو کویتی قوم کی جانب سے ایک ٹھوس پیغام ضرور ملے گا۔

اس سے قبل کویت کے اسلامی گروپوں نے لبنانی سفارت خانے کے سامنے احتجاج بھی کیا تھا جس میں حزب اللہ کی جانب سے شام میں مداخلت کی شدید مخالفت کی گئی تھی۔ شیخ شافی العجمی، جو دو سال سے شامی اپوزیشن کی مدد کی مہم چلا رہے ہیں، کا کہنا تھا کہ لبنانی سفارت خانے کے سامنے ہونے والا یہ احتجاجی دھرنا پہلا پیغام ہے، اگر اس پیغام کو نہ سمجھا گیا تو ہم لبنانی مصنوعات کا اقتصادی بائیکاٹ بھی کرینگے۔

کویتی اپوزیشن کے متعدد سابق اراکین پارلیمان دو روز قبل شام کے ان متعدد مقامات کے دورے سے واپس آئے ہیں جن پر جیش الحر کا تسلط قائم ہے۔ ان کا یہ دورہ شامی عوام اور ان کے حقوق کے لیے لڑنے والی جیش الحر سے اظہار یک جہتی میں تھا۔ اس کویتی وفد میں جمعان الحریش، فلاح الصوارغ، مبارک الوعلان اور بدر الداھوم شامل تھے۔ پیر کی شب ایک کانفرنس میں انہوں نے اپنے دورے کی تفصیلات سے آگاہ کیا اور خلیجی ممالک سے شامی قوم کو اسلحہ کی فراہمی کا مطالبہ بھی کیا تھا۔