.

'انڈوف' میں شامل آسٹرین فوجیوں کی گولان سے واپسی

فلپائن کے بعد آسٹرین دستوں کا انخلاء 'انڈوف' مشن کے لئے دھچکہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام اور اسرائیل کے درمیان متنازعہ پہاڑی علاقے گولان سے 'العربیہ' کے نامہ نگار نے اپنے مراسلے میں بتایا ہے کہ شامی فوج اور اپوزیشن جنگجوٶں کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں- یہ جھڑپیں القنیطرہ کے علاقے میں ہو رہی ہیں-

یاد رہے کہ گولان میں 'انڈوف' دستوں کی موجودگی میں شام اور اسرائیلی فوج کے درمیان براہ راست تصادم کا امکان ہوتا ہے اور یو این مینڈیٹ کے تحت تعینات یہ دستے علاقے میں کشیدگی کی فضا روکنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں-

یہ جھڑپیں ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہیں کہ جب گولان کے علاقے میں اقوام متحدہ کی نگرانی فورس میں شامل آسٹرین فوجیوں نے انخلا شروع کر رکھا ہے- گولان سے آسٹرین فوجیوں کی واپسی ویانا کی جانب سے خطے میں یو این مشن کو سیکیورٹی خدشات کی بنا پر بند کرنے کے اعلان کے بعد شروع ہوا ہے-

فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق گولان میں تعینات آسٹرین فوج کے بیس اہلکار شام اور اسرائیل کے درمیان اکلوتی سرحدی راہدی القنطیرہ عبور کر کے اسرائیل داخل ہوئے ہیں- فیلڈ ذرائع نے بتایا کہ یو این نگرانی مشن میں دوسرے ملکوں کے علاقوہ آسٹریا کے 378 فوجیوں پر مشتمل دستہ بھی شامل ہے- اس دستے کے مزید پچاس اہلکار آج [بدھ] کے روز کسی وقت وطن واپسی کرنے والے ہیں-یو این نگرانی مشن سے واپسی کرنے والے پہلے ساٹھ سے اسی آسٹرین فوجی بدھ کی دوپہر تک ویانا پہنچ جائیں گے- آسٹرین وزارت دفاع کے ترجمان اینڈرآس سٹروبل نے برطانوی خبر رساں ادارے 'رائیٹرز' کو ویانا میں بتایا کہ اس طرح عملا ہمارے دستوں کا گولان سے انخلا شروع ہو چکا ہے-

آسٹرین فوجیوں کے گولان سے انخلاء کے بعد بھارت اور چلی کے فوجی دستے وہاں باقی رہ جائیں گے- ان ملکوں کے فوجیوں کو بھی علاقے میں سیکیورٹی کی صورتحال میں بہتری کی امید نظر نہیں آتی-

آسٹرین فوجیوں کی گولان سے روانگی یو این ڈس انگیجمنٹ آبزرور فورس 'UNDOF' کے لئے بڑا صدمہ ہے- یاد رہے شامی باغیوں نے 'انڈوف' سے تعلق رکھنے والے متعدد اہلکاروں کو گزشتہ چند دنوں میں اغوا کیا جو گولان کی پہاڑیوں میں پرتشدد کارروائیوں کی نشاندہی کرتا ہے-