.

منشیات، ہیروں کی تجارت حزب اللہ کی مالی 'لائف لائن' کے اہم عناصر

ایران دینا بھر میں حزب اللہ کا سب سے مالی، سیاسی اور سفارتی سرپرست ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنانی تنظیم حزب اللہ نے دنیا بھر میں اپنے کارکنوں کا ایک پیچیدہ نیٹ ورک قائم کرنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔ شیعہ ملیشیا کے یہ کارکن گاڑیوں فروخت اور منشیات کے کاروبار سے حاصل آمدن کی منی لانڈرنگ میں ملوث ہیں۔ عطیات جمع کرنا، ہیروں، معدنیات اور جائیدادوں کی خرید و فروخت اور سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ لگا کر بھی اچھی خاصی رقوم جمع کرلی جاتی ہیں۔

خلیج تعاون کونسل (GCC) کی رکن ملکوں میں حزب اللہ سے وابستہ افراد کے خلاف کارروائیوں کی اپیل کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خلیجی ممالک میں حزب اللہ کا اثر کہاں اور کس طرح کارفرما ہے۔

خلیج میں حزب اللہ کی اقتصادی طاقت رئیل اسٹیٹ، ٹھیکوں، اشیا خور و نوش اور فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے کاروبار میں پنہاں ہے۔ اسی طرح خلیجی مارکیٹ میں حزب اللہ کے بااثر بنکرز بھی موجود ہیں۔ قالین کی تجارت بھی پارٹی کا بڑا اثاثہ ہے۔ ادھر تہران، جو حزب اللہ کا سرپرست اور سب سے بڑا مالی مددگار شمار ہوتا ہے، میں حزب اللہ کے لئے ایرانی حکومت علاحدہ بجٹ مختص کرتی ہے۔

زمانے کے الٹ پھیر کی شکار حزب اللہ، ایران سے مدد حاصل کرنے والے تنظیموں میں سرفہرست ہے۔ ایران ہر سال 200 تا 300 ملین ڈالرز حزب اللہ کو فراہم کرتا ہے۔ امریکی پابندیوں کی باوجود ایران کی حزب اللہ کے لئے امداد میں کمی نہیں آئی۔

لبنان میں حزب اللہ کا مالی دارو مدار ایرانی امداد پر ہے۔ یہاں حزب اللہ اپنی اتحادی شخصیات کو بڑے بڑے عہدوں پر فائز کراتا ہے۔ مغربی افریقا میں حزب اللہ کے فنڈز کا انحصار ہیروں اور معدنیات کی تجارت پر ہے۔ لاطینی امریکا میں بالعموم اور میکسیکو میں بالخصوص حزب اللہ کو ملنے والی مالی امداد کے ماحاصل منشیات اور کاروں کی تجارت سے حاصل ہونے والی آمدنی پر مشتمل ہیں۔