.

ٹریفک قواعد کی پامالی پر اماراتی نوجوان کو 240 ہزار درھم جرمانہ

دو ہفتوں میں 170 سنگین خلاف ورزیوں کا ارتکاب کیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات میں ایک منچلے نوجوان نے ایک کرائے کی گاڑی لیکر صرف پندرہ دنوں میں 170 بار ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کا ارتکاب کیا، جن کی پاداش میں اسے 240 ہزار درھم جرمانے کی سزا ہوئی ۔

تفصیلات کے مطابق اس نوجوان نے صرف ایک گھنٹے کے دوران 54 مرتبہ ٹریفک رولز کو پامال کیا جنہیں ابوظہبی اور دبئی کو ملانے والی شاہراہ پر لگے تمام راڈارز نے مانیٹر کیا۔ یہ سب ایسی سنگین خلاف ورزیاں تھیں جن میں سے ہر ایک پر ایک ماہ ڈرائیونگ پر پابندی کی سزا مقرر ہے۔ اس طرح ان غلطیوں پر قانون کے مطابق 1620 دن، یا چار سال چھ ماہ تک پابندی یا پابندی کے متبادل کے طور پر 162 ہزار درھم ادا کرنا ہونگے۔

’’داماس‘‘رینٹ اے کار کے ڈائریکٹر مھند محمد الحسن نے بتایا کہ لگتا ہے کہ اس نوجوان کا مقصد ہمارے کاروبار کو نقصان پہنچانا تھا کیونکہ اس نے ٹریفک ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کا ایک ریکارڈ قائم کیا ہے۔ یہ لڑکا ایک گھنٹے کے دوران جتنی بھی شاہراہوں سے گزرا اس نے رفتار 200 کلومیٹر رکھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اشکال اس وجہ سے بھی پیدا ہوتا ہے کہ ان خلاف ورزیوں کو ریکارڈ کرنے میں تاخیر کی گئی اور متعلقہ اداروں کی جانب سے اسے مزید خلاف ورزیوں سے بروقت روکا بھی نہ گیا۔ انہوں نے کہا کہ جب انہوں نے دبئی ٹریفک پولیس کے ڈائریکٹر جنرل سے اس بابت شکایت کی تو انہوں نے مدد کرنے سے انکار کردیا اور براہ راست عدالت سے رجوع کا کہ دیا۔

ادھر ٹریفک ڈائریکٹوریٹ کے ڈائریکٹر جنرل، میجر جنرل انجینئر محمد سیف الزفین کا کہنا ہے کہ کار کرائے پر دینے والے دفتر نے اپنی حفاظتی اقدامات مکمل نہیں کیے تھے۔ اس نے کریڈٹ کارڈ کا نمبر لیے بغیر اس نوجوان کو کار دیدی۔ اس طرح کے لاابالی لڑکوں کے شر سے بچنے کے لیے یہی مناسب حفاظتی اقدام ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے رینٹ اے کار کے دفاتر واضح قواعد کے مطابق عمل نہیں کرتے اور جب کسی مشکل میں پھنس جاتے ہیں تو پھر پولیس پر الزام دھر دیتے ہیں۔

رینٹ اے کار کے مالک نے بتایا کہ گزشتہ ماہ پیش آنے والا قصہ اس وقت شروع ہوا جب ’’ع، ص، ع‘‘ کے نام کا دعوی کرنے والے ایک نوجوان نے آفس سے ’’رینج روور ماڈل 2013‘‘ جیب کرائے پر لی۔ اس کے ڈرائیونگ لائسنس کی کاپی، پاسپورٹ اور قاعدے کے مطابق دو دن کا ایڈوانس کرایہ وصول کرکے کار اس کے سپرد کردی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ ان کا آفس کسی سے کریڈٹ کارڈ وصول نہیں کرتا اور اگر کسی کریڈٹ کارڈ لے بھی لیا جائے تو اس کے ذریعے گاہک کی جانب سے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کے جرمانے کی قیمت پوری کرنا ممکن نہیں ہوتا۔

انہوں نے بتایا کہ نوجوان نے کرائے کی مدت ختم ہونے پر گاڑی انتہائی خستہ حالت میں واپس کردی، اس کے شیشے ٹوٹے ہوئے تھے اور اس پر مختلف مقامات پر ڈنٹ پڑے ہوئے تھے۔ اس کار کی مرمت پر 40 ہزار درھم خرچہ آیا۔

انہوں نے بتایا کہ بات یہیں ختم نہیں ہوئی بلکہ اصل دھچکا اس وقت لگا جب ٹریفک پولیس کی جانب سے رجوع کیا گیا اور انہیں بتایا گیا کہ اس کار نے صرف پندرہ روز کے اندر ٹریفک قوانین کی 170 خلاف ورزیاں کی ہیں۔ انہوں نے کہا بتایا کہ انہیں اب تک دیگر خلاف ورزیوں کی شکایات موصول ہو رہی ہیں۔

رینٹ اے کار کے مالک نے بتایا کہ اس کار کی جانب سے کی جانے والی ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر جرمانے کی قیمت 245 ہزار درھم بن جاتی ہے۔ ان خلاف ورزیوں میں 54 انتہائی سنگین نوعیت کی ہیں، جن میں سے ہر خلاف ورزی پر ایک ماہ کی پابندی کی سزا ہے۔ اس طرح کل 1620 دن، یا چار سال چھ ماہ کی پابندی سزا بنتی ہے۔ اور اس پابندی کے متبادل کے طور پر ان سے اب 162 ہزار درھم کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔