.

غرب اردن میں یہودیوں کے لئے 675 نئے گھر تعمیر کئے جائیں گے

امریکا، اسرائیل ۔ فلسطین معطل امن مذاکرات دوبارہ شروع کرانے کا خواہاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق مغربی کنارے میں قائم بعض یہودی بستیوں میں سو فیصد تک توسیع کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ یہودی حکام کے نئے منصوبے میں نابلس کے جنوبی قصبات بیت فوریک اور عورتا میں یہودیوں کے لئے 675 نئے گھر تعمیر کیے جائیں گے جس کے بعد ’’ایتمار‘‘ یہودی بستی میں مزید توسیع ہو جائے گی۔

عبرانی اخبار ’’یدیعوت احرونوت‘‘ کے آن لائن ایڈیشن کے مطابق یہودی بستی جس میں اس وقت 100 خاندان آباد ہیں نئے گھروں کی تعمیر کے بعد 100 فیصد زیادہ پھیل جائے گی۔ ان منصوبوں کی منظوری اسرائیلی وزیر دفاع ایھود باراک نے اسرائیل کے گزشتہ پارلیمانی انتخابات سے قبل دی تھی۔

اس منصوبے کے تحت 538 نئے گھر تعمیر کیے جائیں گے جبکہ 137 پرانے گھروں کو گرا کر دوبارہ تعمیر کیا جائے گا۔ منصوبے کی منظوری کے بعد اسے اعتراضات جمع کروانے کے لیے میڈیا پر نشر کردیا گیا تھا۔

ایتمار کالونی میں نئے گھروں کی تعمیر اسرائیلی رہنماؤں کی جانب سے اس بستی میں توسیع کے وعدوں کی تکمیل کا حصہ ہے۔ یہ وعدے اسرائیلی سیاست دان اس وقت سے کر رہے تھے جب اس یہودی میں ’’فوگل‘‘ خاندان کے پانچ افراد کو قتل کردیا گیا تھا۔ قتل کی اس واردات کے بعد سے یہودی بستی سیاستدانوں کے لیے اہم بن گئی تھی۔