.

اسلحہ ملا تو 6 ماہ میں اسد حکومت گرا دیں گے: جنرل ادریس

'کاندھے سے فائر ہونے والے طیارہ شکن میزائل نہیں ملیں گے'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں بشار الاسد کی حامی فوج کے خلاف نبرد آزما حکومت مخالف جنگجوؤں کی فوج 'جیس الحر' کے کمانڈر انچیف جنرل سلیم ادریس نےدعوی کیا ہے کہ اگر انہیں مناسب اسلحہ فراہم کیا گیا تو وہ چھے ماہ کے اندر سرکاری فوج کو شکست فاش دے سکتے ہیں۔

جنرل ادریس کا یہ دعوی امریکا کی جانب سے جیش الحر کو فوجی امداد دینے سے متعلق فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے۔ جنرل ادریس نے مغربی ملکوں پر زور دیا کہ وہ ان کی زیر کمان جیش الحر کو طیارہ اور میزائل شکن توپیں فراہم کریں۔ نیز شام کو 'نو فلائی' زون قرار دیا جائے تو وہ چھے ماہ کے اندر دمشق حکومت کا دھڑن تختہ کر دیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس بات کی کامیابی کا دار و مداد ہمیں دی جانے والی امداد پر ہے، اگر یہ تعاون کم ہوا تو یقیناً ہمیں ایک لمبی لڑائی لڑنا ہو گی۔ اگر ہمیں کافی امداد ملی تو ہمیں بہت کم تربیت درکار ہو گی۔ ہمیں اگر مناسب اسلحہ اور تربیت فراہم کی گئی تو چھے مہینوں میں بشار الاسد حکومت کی بساط لپیٹی جا سکتی ہے۔

یورپ کے سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے خبر رساں ادارے 'رائیٹرز' نے بتایا ہے کہ امکانی طور پر امریکا شام میں حکومت مخالف جنگجوؤں کو مارٹر گولے، میزائل فراہم کر سکتا ہے تاکہ وہ سرکاری فوج کی بکتر بند گاڑیوں اور ٹینکوں کو نشانہ بنا سکیں۔

انہی ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ فی الوقت کندھے پر رکھ کر فائر کئے جانے والے میزائل کی فراہمی کا امکان نظر نہیں آتا۔ ایک امریکی عہدیدار نے خیال ظاہر کیا ہے کہ نئی امریکی امداد سے شام کی صورتحال کو خطرناک سمت جانے سے نہیں روکا جا سکے گا۔