.

بشار الاسد کی مدد کے لئے 4000 پاسداران انقلاب شام بھجوانے کی منظوری

تہران خود کو ہر قمیت پر دمشق کی مدد کرنے کا پابند سمجھتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران پاسداران انقلاب کے چار ہزار اہکار شامی فوج کی مدد کے لئے شام پھیجنے کی منظوری دی ہے۔ اس امر کا انکشاف برطانوی اخبار 'انڈیپنڈینٹ' نے اپنی حالیہ اشاعت میں کیا ہے۔

برطانوی اخبار نے ایرانی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ یہ فیصلہ صدارتی انتخاب سے ایک ہفتہ قبل کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق ایران خود کو بشار الاسد کی ہر ممکن مدد کا پابند خیال کرتا ہے چاہئے اس مقصد کے لئے گولان کی پہاڑیوں میں نیا محاذ ہی کیوں نہ کھولنا پڑے۔

دوسری جانب 'انڈیپنڈینٹ' نے یہ بھی بتایا ہے کہ اس وقت تین ہزار امریکی ماہرین اردن میں موجود ہیں جو شام میں نو فلائی زون بنانے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ اردن یہ اعلان کر چکا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو شام سمیت کسی دوسرے ملک پر جارحیت کے لئے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ عمان نے اپنی شمالی سرحد پر امریکی فوج کی موجودگی سے متعلق خبروں کی سختی سے تردید کی ہے۔

تاہم اردن نے امریکا سے یہ مطالبہ ضرور کیا ہے کہ وہ 'چوکس شیر' نامی فوجی مشقوں کے بعد اپنے ایف سولہ طیارے اور میزائل شکن پیڑیاٹ بیٹریاں عمان ہی میں رہنے دے، جس کے بارے میں امریکی محکمہ دفاع نے اپنی رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ یاد رہے کہ یہ امریکی اسلحہ اردن میں جاری جنگی مشقوں میں شمولیت کے لئے عمان لایا گیا تھا۔