.

حلب پر چڑھائی کے لیے اسدی فوج حزب اللہ کے زیر تربیت

تجارتی مرکز کا کنٹرول واپس لینے کی کارروائی میں 80 ہزار جنگجو حصہ لیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شمالی شہر اور تجارتی مرکز حلب پر چڑھائی کے لیے لبنانی ملیشیا حزب اللہ نے صدر بشارالاسد کی فورسز کے اسّی ہزار اہلکاروں کو حربی تربیت دی ہے۔

برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز میں اتوار کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق حزب اللہ کے ایک کمانڈر کا کہنا ہے کہ شام نیشنل ڈیفنس فورس (این ڈی ایف )سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کو گلی گلی لڑنے کی تربیت دی گئی ہے۔

اس اخبار نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ان جنگجوؤں کو ایران کے پاسداران انقلاب نے بھی تربیت دی ہے۔اس کمانڈر کے بہ قول ''حزب اللہ حلب میں لڑائی کے لیے اپنے جنگجو نہیں بھیجے گی بلکہ صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز کو حربی سپورٹ مہیا کرے گی''۔

ان صاحب کا کہنا ہے کہ حلب میں این ڈی ایف اور شامی فوج ہی لڑے گی جبکہ حزب اللہ ان کی نگرانی کرے گی اور انھیں حربی مشورے دے گی کہ کیسے منظم انداز میں حملہ کیا جاسکتا ہے۔شامی فوج کو یہ بھی بتایا جائے گا کہ برسرزمین افرادی قوت کا کیسے بہتر استعمال کیا جاسکتا ہے،کیسے پیش قدمی کی جاسکتی اور لڑا جاسکتا ہے۔

شامی فوج کے حلب پر حملے کا مقصد وہاں سے حزب اختلاف کے جنگجوؤں کو نکال باہر کرنا ہے۔قبل ازیں جون کے آغاز میں شامی فوج نے حزب اللہ کی مدد سے وسطی قصبے القصیر پر باغیوں کے ساتھ خونریز لڑائی کے بعد دوبارہ قبضہ کیا ہے۔

اخبار نے لکھا ہے کہ حلب پر شامی فوج دوبارہ کنٹرول حاصل کرلیتی ہے تو اس سے اس تاثر کو تقویت ملے گی کہ بشارالاسد جنگ جیت رہے ہیں۔حزب اللہ کے کمانڈر نے سنڈے ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ ان کی تنظیم نے شام کے النصرۃ محاذ کی جانب سے لبنان کے سرحدی علاقے میں درپیش خطرے کے پیش مداخلت کی تھی۔

''لیکن حلب شامی معاملہ ہے مگر حزب اللہ اپنی معاونت جاری رکھے گی کیونکہ وہ صدر بشارالاسد کو برقرار رکھنے کی خواہاں ہے۔اس کے علاوہ وہ اسرائیل کے خلاف مزاحمت کے محوروں کو بھی برقرار رکھنا چاہتی ہے''۔حزب اللہ کے کمانڈر کا کہنا تھا۔