.

لبنان کے سرحدی علاقے میں مسلح افراد کی فائرنگ سے چارشیعہ ہلاک

شام کی سرحد کے نزدیک واقع لبنانی علاقے میں تشدد کے واقعات میں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے شام کی سرحد کے نزدیک واقع علاقے وادی بقاع میں مسلح افراد نے فائرنگ کرکے چار اہل تشیع کو ہلاک کردیا ہے۔

لبنان کے ایک سکیورٹی ذریعے نے بتایا ہے کہ مسلح افراد نےبقاع کے علاقے قاع میں جعفر خاندان کے تین ارکان اور احماز خاندان کے ایک شخص کو گولی مار کر قتل کردیا ہے اور حملے میں ایک شخص شدید زخمی ہوگیا ہے''۔یہ دونوں شیعہ قبیلے وادی بقاع ہی میں مقیم ہیں۔

شام کی سرحد کے نزدیک واقع قصبہ قاع سنی اکثریتی ہے اور یہ ایک اور سنی اکثریتی قصبے عرسال کے نزدیک واقع ہے۔اس قصبے کے مکین شامی صدر بشارالاسد کے خلاف برسر پیکار سنی جنگجوؤں کی حمایت کررہے ہیں۔

شام کے ایک ہیلی کاپٹر نے گذشتہ ہفتے عرسال اور ایک اور قصبے سیرین پر چار میزائل داغے تھے جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے تھے۔اسی ماہ تشدد کے ایک اور واقعہ میں لبنانی دارالحکومت بیروت میں ایرانی سفارت خانے کے نزدیک شیعہ تنظیم حزب اللہ کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جھڑپوں میں ایک نوجوان ہلاک اور گیارہ افراد زخمی ہوگئے۔

واضح رہے کہ لبنان نے پہلے تو شامی تنازعے کے حوالے سے غیرجانبدارانہ موقف اختیار کیے رکھا ہے لیکن حزب اللہ کے جنگجو اس وقت شام میں باغیوں کے مقابلے میں صدر بشارالاسد کی کھلم کھلا جنگی ،سفارتی ،سیاسی اور اخلاقی حمایت کررہے ہیں۔لبنانی وزیرخارجہ نے بھی اگلے روز کہہ دیا ہے کہ سرحدی علاقے کے نزدیک شامی فوج اور باغیوں کے درمیان لڑائی کے بعد صورت حال تبدیل ہوچکی ہے اور لبنانی شہری سرحدی دیہات کے تحفظ کے ضمن لاتعلق نہیں رہ سکتے ہیں۔

حزب اللہ کے جنگجو علوی فرقے سے تعلق رکھنے والے شامی صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے شانہ بشانہ خانہ جنگی کا شکار ملک میں سنی جنگجوؤں کے خلاف لڑرہے ہیں اور حال ہی میں القصیر میں شامی فوج کو ان کی بدولت ہی فتح حاصل ہوئی ہے۔

دوسری جانب لبنان کے اہل سنت شامی باغیوں اور حزب اختلاف کے حامی ہیں۔تاہم وہ حزب اللہ کی طرح شامی تنازعے میں مسلح مداخلت نہیں کررہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ حزب اللہ نے شام میں جنگی مداخلت کرکے لبنان کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے اور ملک کو خانہ جنگی کی جانب دھکیلنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

لیکن حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کو شام میں فوجی مداخلت پر کوئی پریشانی نہیں ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ان کی جنگجو تنظیم نے شام میں ''تاخیر'' سے مداخلت کی ہے اور یہ مداخلت امریکا اور اسرائیل کے شام سمیت پورے مشرق وسطیٰ کو کنٹرول کرنے کے ''عالمی منصوبے'' کے ردعمل میں کی گئی ہے۔

حسن نصراللہ نے جمعہ کو ایک بیان میں اپنے تئیں ان الزامات کو مسترد کردیا کہ ان کی ملیشیا شام میں فرقہ وارانہ جنگ کی قیادت کررہی ہے۔ان کے بہ قول:''شام میں تنازعہ عقیدوں یا شیعہ ،سنی کے درمیان نہیں ہے بلکہ یہ دو مختلف منصوبوں کے درمیان ہے''۔یہ ان کا موقف ہے وگرنہ اب شامی تنازعہ فرقہ وارانہ شکل اختیار کر چکا ہے۔