.

شام نے سفارتی تعلقات منقطع کرنے پر مصر کی مذمت کردی

مصری سلفیوں کا صدرمرسی کے شام سے متعلق مؤقف پر تحفظات کا اظہار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی حکومت نے مصر کی جانب سے دمشق کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کے فیصلے کی مذمت کی ہے اور صدر محمد مرسی کے صدر بشارالاسد کے خلاف محاذ آراء باغیوں کی حمایت کے فیصلے کو غیر ذمے دارانہ قرار دیا ہے۔

مصری صدر محمد مرسی نے ہفتے کے روزقاہرہ میں منعقدہ ایک ریلی سے خطاب میں شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کیا تھا اور شام میں نوفلائی زون کے قیام کی ضرورت پر زوردیا تھا۔

شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا کے مطابق ایک بے نامی عہدے دار نے مصر کے اس غیر ذمے دارانہ موقف کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ''مصری صدر محمد مرسی بھی امریکا اور اسرائیل کی قیادت میں شام کے خلاف سازش میں شامل ہوگئے ہیں''۔

اس بے نامی عہدے دار نے محمد مرسی پر الزام عاید کیا کہ وہ داخلی بحران سے توجہ ہٹانے کی کوشش کررہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ شام کو اعتماد ہے کہ یہ فیصلہ مصری عوام کے جذبات کا عکاس نہیں ہے۔

درایں اثناء مصر کے سلفیوں کی جماعت حزب النور نے صدر محمد مرسی کی جانب سے شام کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کے فیصلے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

حزب النور نے ہفتے کے روز قاہرہ میں شام کی حمایت میں نکالی گئی سرکاری ریلی کا بھی بائیکاٹ کیا تھا۔جماعت کے ترجمان نادر بکر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ریلی کے بائیکاٹ کا فیصلہ صدر مرسی کے اعلان کے وقت کے پیش نظر کیا گیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ہم گذشتہ ڈیڑھ ایک سال سے شام کی مختلف سطحوں پر حمایت کررہے ہیں اور ہمیں اس وقت تیس جون سے قبل عوام کے ایک دھڑے کو دوسرے دھڑے کے خلاف لانے کے حوالے سے تحفظات ہیں۔

واضح رہے کہ تیس جون کو صدر مرسی کو برسراقتدار آئے ایک سال ہوجائے گا۔نادر باکر کا کہنا تھا کہ مرسی کے حالیہ بیانات ان کے سابقہ بیانات سے کوئی لگا نہیں کھاتے کیونکہ وہ ماضی میں ایسے ہی ایک بیان میں یہ کہہ چکے ہیں کہ مصر اور روس کا شامی تنازعے سے متعلق موقف ایک جیسا ہے۔واضح رہے کہ روس شامی حکومت کی کھلم کھلا حمایت کررہا ہے۔