.

''مرسی نے البرادعی کے وزیر اعظم بننے پر مصر کو جلانے کی دھمکی دی تھی''

اخوان نے میرے وزیر اعظم بننے کے امکان کو ویٹو کردیا تھا:سابق سربراہ آئی اے ای اے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) کے سابق سربراہ اورمصری حزب اختلاف کے سیاست دان محمد البرادعی نے انکشاف کیا ہے کہ انھیں وزیراعظم بنانے کی صورت میں صدر محمد مرسی نے ملک کو جلانے کی دھمکی دی تھی۔

محمد البرادعی نے فوج کے سابق سربراہ اور وزیردفاع فیلڈ مارشل محمد حسین طنطاوی کے حوالے سے یہ انکشاف کیا ہے اور کہا ہے کہ اخوان المسلمون نے ان کے وزیراعظم بننے کے امکان کو ویٹو کردیا تھا۔

واضح رہے کہ مصر کی مسلح افواج کی سپریم کونسل نے 2011ء میں محمدالبرادعی کو ملک کا وزیراعظم بنانے پر غور کیا تھا لیکن یہ واضح نہیں ہوا کہ محمد مرسی نے کب البرادعی کو وزیراعظم مقرر کرنے کی صورت میں ملک کو آگ میں جھونکنے کی دھمکی دی تھی کیونکہ وہ تو جون 2012ء میں صدر بنے تھے۔

محمدالبرادعی نے لندن سے شائع ہونے والے عربی اخبار الحیات سے انٹرویو میں کہا کہ ''محمدمرسی کو ملک کا صدر بنے ایک سال ہونے کو ہے لیکن اخوان المسلمون سیاسی ،اقتصادی اور سکیورٹی کے محاذوں پر ناکام رہی ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''اب صدر مرسی کے لیے یہ بات تسلیم کرنے کا وقت آگیا ہے کہ ان کی ناکامی کی صورت میں ملک میں قبل از وقت صدارتی انتخابات کرانا پڑیں گے''۔انھوں نے مزید کہا کہ وہ آیندہ صدارتی انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے۔

اس انٹرویو میں محمد البرادعی نے اخوان المسلمون پر برپا شدہ 25 جنوری انقلاب کو ہائی جیک کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ''نوجوانوں میں بہت غم وغصہ پایا جارہا ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں ان کا انقلاب چھین لیا گیا ہے اور ان کے خواب بھی چُرا لیے گئے ہیں ،یہ سہانے مستقبل کے خواب تھے''۔ان کے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق نوجوان مصری معاشرے کی 60 فی صد نمائندگی کرتے ہیں۔

مصریوں کی ایک بڑی اکثریت نے معاشی مشکلات کے ازالے ،بنیادی ضروریات کی فراہمی اور بے روزگاری کے خاتمے کے لیے سابق مطلق العنان صدر حسنی مبارک کے خلاف بغاوت کی تھی لیکن ان کے عوامی انقلاب کے ڈھائی سال کے بعد بھی یہ مسائل جوں کے توں ہیں۔ان کی اُمنگوں کے مطابق کوئی تبدیلی نہیں آئی اور انھوں نے صدر مرسی کی حکومت کے خلاف بھی احتجاجی مظاہرے جاری رکھے ہوئے ہیں۔