.

ڈالر کے مقابلے میں شامی لیرا نچلی ترین سطح پر آ گیا

بحران کے آغاز سے ابتک شامی کرنسی کی قدر میں 77 فیصد کمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کرنسی کا کاروبار کرنے والے منی چینجرز اور بینکاروں کا کہنا ہے کہ شامی لیرا کی قدر اس وقت ڈالر کے مقابلے میں نچلی ترین سطح پر آ گئی ہے۔ لیرا کی قدر میں حالیہ کمی شامی اپوزیشن کو مسلح کرنے کے امریکی اعلان اور بشار الاسد مخالفین کو دوسرے ممالک کی جانب سے عسکری امداد دینے کی اطلاعات کے بعد دیکھنے میں آئی ہے۔

دمشق میں منی ایکسچینج کے کاروبار سے منسلک حلقوں کے مطابق دو برس سے قبل شروع ہونے والے شامی بحران کے بعد حالیہ دنوں میں سب سے زیادہ کمی دیکھنے میں آئی ہے. خوف و ہراس کی وجہ سے ڈالرز کی خرید میں تیزی آ رہی ہے جس کی وجہ سے پہلی ایک ڈالر 200 لیرا کے برابر فروخت ہو رہا ہے.

گزشتہ روز 205 لیرا کے بدلے ایک ڈالر فروخت ہوتا رہا. چار دنوں میں لیرا کی قدر میں 20 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ مارچ 2011ء میں شامی حکومت کے خلاف تحریک بغاوت کے بعد سے اب تک لیرا کی قدر 77 فیصد کمی آئی ہے۔ اس وقت کا ایک ڈالر کے عوض 47 لیر فروخت کئے جا رہے تھے۔

وسطی دمشق میں کرنسی کا کاروبار کرنے تاجر عاصم سلمان نے بتایا کہ "دارلحکومت میں مکمل افراتفری ہے۔ امریکیوں کی جانب سے اپوزیشن کومبینہ طور پر مسلح کرنے کے اعلان کے بعد ڈالر کی طلب میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ شامی لیرا کی قیمت کا تعین ناممکن ہو گیا ہے. ڈالرز کی قدر میں بڑی تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور اس افراتفری کو کوئی چیز ختم نہیں کر پا رہی۔"

وائٹ ہاؤس کی جانب سے شامی مسلح مزاحمت کی امداد اور مصر، سعودی عرب اور دیگر ملکوں کے سنی علماء کی جانب سے شامی جہاد میں شرکت کی کال سے بھی کاروباری حلقے بری طرح خوفزدہ ہیں۔


شام میں جاری خانہ جنگی تمام بڑے شہروں میں پھیل چکی ہے. اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ دو سال سے جاری پرتشدد واقعات میں اب تک 90 ہزار افراد مارے جا چکے ہیں. خانہ جنگی کی وجہ سے ملکی معیشت کو بھی اربوں ڈالرز کا نقصان ہوا ہے۔

تاجروں کا کہنا ہے کہ لیرا کی تیزی سے گرتی ہوئی قدر کی ذمہ داری شامی سنٹرل بنک کے گورنر ادیب میالہ پر عائد ہوتی ہے۔ وہ لیرا کو مستحکم رکھنے کے کا اپنا وعدہ پورا نہ کرسکے۔

دو سال سے لیرا کی قدر میں بتدریج گراوٹ کو شامی حلیفوں ایران اور روس کی مالی امداد کی یقین دہانیاں بھی روک نہیں سکیں۔ بعض ڈیلرز کا کہنا ہے کہ حال ہی میں ایران نے سنٹرل بنک کو دو ملین ڈالرز کا عطیہ بھی دیا ہے، تاہم اس سب کے باوجود لیرا کی قدر تیزی سے کمی ہوئی ہے۔

شامی سنٹرل بنک نے لیرا مزید بے قدری سے بچانے کے لیے دس کروڑ یورو مارکیٹ میں 'انجیکٹ' کیے مگر اس کا بھی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہو سکا۔ ڈیلرز کا کہنا ہے کہ ان فنڈز کے حصول کے لیے بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اب تک مارکیٹ میں صرف پچاس لاکھ یورو ہی پہنچے ہیں۔ سنٹرل بنک کے گورنر میالہ نے کہا کہ ایران کے ساتھ دمشق میں پیر کے روز معاہدے میں اتفاق کیا گیا ہے کہ درآمدات کے لیے سرمایہ کاری کرنے والی کمپنیوں کی مدد کی جائے گی، انہوں نے کہا کہ لیرا کی قدر میں یہ کمی مصنوعی ہے۔