.

حزب اللہ شام میں اپنا کردار ختم کرے:لبنانی صدر

شامی تنازعے میں حزب اللہ کی مداخلت لبنان میں کشیدگی پر منتج ہوئی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنانی صدر مشعل سلیمان نے شیعہ ملیشیا حزب اللہ پر زوردیا ہے کہ وہ شام میں جاری جنگ میں حصہ لینا بند کرے اور لبنان لوٹ آئے کیونکہ اس کے شام میں کردار کی وجہ سے اندرون ملک کشیدگی پیدا ہورہی ہے۔

ایک لبنانی روزنامے کے ساتھ انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ ''وہ شامی تنازعے میں حزب اللہ کی مداخلت کے خلاف ہیں کیونکہ یہ لبنان میں اندرونی کشیدگی پر منتج ہوئی ہے''۔

لبنانی صدر کا یہ بیان حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ان کی تنظیم شامی تنازعے میں شریک رہے گی۔حزب اللہ نے شام کے وسطی صوبے حمص کے قصبے القصیر پر قبضے کی جنگ میں صدر بشارالاسد کی فوج کا ساتھ دیا ہے اور اب وہ شمالی شہر حلب میں بھی شامی باغیوں کے خلاف ایک نئے محاذ کی تیاریوں میں ہے۔

صدر مشعل سلیمان نے کہا کہ ''اگر حزب اللہ حلب میں نئی جنگ میں شرکت کرتی ہے اور اس جماعت کی مزید ہلاکتیں ہوتی ہیں تو اس سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگا۔قصیر ہی کو اختتام ہونا چاہیے اور انھیں لبنان لوٹ آنا چاہیے''۔

انھوں نے کہا کہ ''مزاحمت کا تحفظ مجھے عزیز ہے لیکن میں انھیں خود ان سے بھی بچانا چاہتا ہوں۔میں جب حزب اللہ کو غلطی کرتے ہوئے دیکھتا ہوں تو میں انھیں مطلع کرتا ہوں''۔

واضح رہے کہ صدر سلیمان نے شامی تنازعے کے تمام فریقوں کی جانب سے لبنان کے خلاف جارحیت اور جارحانہ اقدامات کے خلاف اقوام متحدہ کو ایک یادداشت بھیجی تھی۔اس پر انھیں حزب اللہ کے اتحادیوں اور دمشق حکومت کی جانب سے دباؤ کا سامنا ہے۔

لبنان نے سرکاری طور پر تو شامی تنازعے کے حوالے سے غیرجانبدارانہ موقف اختیار کیے رکھا ہے لیکن حزب اللہ کے جنگجو اس وقت شام میں باغیوں کے مقابلے میں صدر بشارالاسد کی کھلم کھلا جنگی ،سفارتی ،سیاسی اور اخلاقی حمایت کررہے ہیں۔

حزب اللہ کے جنگجو علوی فرقے سے تعلق رکھنے والے شامی صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے شانہ بشانہ خانہ جنگی کا شکار ملک میں سنی جنگجوؤں کے خلاف لڑرہے ہیں۔گذشتہ ماہ القصیر میں شامی فوج کو ان کی بدولت ہی فتح حاصل ہوئی ہے۔

دوسری جانب لبنان کے اہل سنت شامی باغیوں اور حزب اختلاف کے حامی ہیں۔تاہم وہ حزب اللہ کی طرح شامی تنازعے میں مسلح مداخلت نہیں کررہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ حزب اللہ نے شام میں جنگی مداخلت کرکے لبنان کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے اور ملک کو خانہ جنگی کی جانب دھکیلنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے گذشتہ روز ہی اطلاع دی ہے کہ حزب اللہ کے جنگجو دارالحکومت دمشق کے نزدیک صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے ساتھ مل کر باغیوں کے خلاف محاذ آراء ہیں اور ان کی اس کارروائی کا مقصد شامی باغیوں کی رسد کی لائن کو کاٹنا ہے۔

شامی باغیوں اور جنگجوؤں پر مشتمل جیش الحر نے دمشق کے نواح میں واقع قصبے زملکا میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج اور حزب اللہ کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی اطلاع دی ہے جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔بشارالاسد کی حکومت پر اس سے پہلے بھی باغیوں کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کے الزامات عاید کیے جاچکے ہیں لیکن یہ پہلا موقع ہے حزب اللہ پر بھی ان ہتھیاروں کو چلانے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔