.

عراق: دو صوبائی کونسلوں کے انتخاب کے لیے پولنگ، مارٹر حملے میں دو ہلاکتیں

نینویٰ اور الانبار میں پولنگ کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے دو سنی اکثریتی صوبوں میں صوبائی کونسلوں کے انتخابات کے لیے جمعرات کو ووٹ ڈالے گئے ہیں جبکہ تشدد کے واقعات میں دو پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔

بغداد سے مغرب میں واقع صوبہ الانبار اور شمالی صوبہ نینویٰ میں صوبائی کونسلوں کی انہتر نشستوں کے لیے چوالیس سیاسی جماعتوں کے ایک ہزار ایک سو اٹھاون امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے جبکہ ان دونوں صوبوں میں اہل ووٹروں کی تعداد اٹھائیس لاکھ ہے۔عراق کے چودہ میں سے بارہ صوبوں میں اپریل میں ووٹ ڈالے گئے تھے۔

الانبار اورنینویٰ میں اس سے پہلے امن وامان کی خراب صورت حال کے پیش نظر صوبائی کونسلوں کے انتخابات دوماہ کے لیے مؤخر کردیے تھے۔آج پولنگ کے موقع سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے لیکن اس کے باوجود تشدد کے اکا دکا واقعات پیش آئے ہیں۔

الانبار کے صوبائی دارالحکومت رمادی میں پولنگ کے دوران مارٹر گولوں کے حملے میں دو پولیس اہلکار مارے گئے ہیں۔اس سے قبل صوبہ نینویٰ میں خودکش بم دھماکے کے نتیجے میں ایک سیاسی لیڈر اور اس کے خاندان کے چار افراد مارے گئے ہیں۔

سیاسی مبصرین ان دونوں صوبوں میں انتخابات کو آیندہ سال عام انتخابات سے قبل وزیراعظم نوری المالکی کی مقبولیت کا امتحان قرار دے رہے ہیں۔ان کی حکومت نے 2010ء میں کوئی نمایاں قانون سازی نہیں کی ہے اور وہ عراقی عوام کو بنیادی ضروریات مہیا کرنے میں بھی ناکام رہی ہے جبکہ سنی اکثریتی صوبوں میں ان کے خلاف وقفے وقفے سے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔