.

فلسطین میں آنکھ کے اشارے سے چلنے والی وہیل چیئر تیار

الیکٹرانک عینک وہیل چیئر کے ریمورٹ کنٹرول کا کام دے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطین میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہر ایک نوجوان نے جسمانی طور پر معذور افراد کے لیے منفرد وہیل چیئر تیارکی ہے جسے آنکھوں کے اشاروں کی مدد سے با آسانی حرکت دی جاسکتی ہے۔

اس منفرد وہیل چیئر کی تیاری میں ٹیکنالوجی کی مصنوعات تیار کرنے والی کمپنی"ایس آئی ٹیکنالوجی" اور عرب یوتھ کونسل برائے انٹی گریٹک ڈویلپمنٹ نے اس کے موجد زیاد الدرعاوی کی مدد کی۔ وہیل چیئر کو معذور افراد کے لیے ایک گراں قدر تحفہ قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس کی نقل وحرکت کسی بھی دوسری وہیل چیئر سے نہایت آسان ہے۔ متحرک کرسی کو اس پر بیٹھے شخص کی آنکھوں پر لگے چشموں سے اور کرسی سے مربوط الیکٹرانک تاروں کی مدد سے حرکت دی جاسکتی ہے۔ یوں الیکٹرانک عینک آنکھوں کے اشاروں پر کام کرتے ہوئے کرسی کو گھمانے میں ریمورٹ کنٹرول کا کام دے گی۔

فلسطینی خبر رساں ایجنسی"معا" کی رپورٹ کے مطابق منفرد وہیل چیئر کی ایجاد اور اس کے موجد کے اعزاز میں حال ہی میں عرب لیگ کے قاہرہ میں قائم ہیڈ کواٹرمیں ایک پُروقار تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ تقریب میں قاہرہ میں متعین فلسطنی سفیر ڈاکٹر برکات الفراء سمیت کئی اہم شخصیات موجود تھیں۔ اس موقع پر الیکٹرانک وہیل چیئر کے بانی زیاد الدرعاوی نے اپنی اس بے مثل ایجاد کے حوالے سے شرکاء کو تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ وہیل چیئرنہ صرف معذور افراد کے لیے چلانے میں نہایت آسان ہے بلکہ اس کی تیاری میں بھی بہت کم لاگت آئی ہے جو کہ صرف ایک سو ڈالرز کی مالیت سے تیار کی گئی ہے۔

زیاد کا کہنا تھا کہ الیکٹرانک چشموں کا استعمال وہیل چیئر کی نقل وحرکت کے علاوہ آئی ٹی کے کئی دوسرے میدانوں بھی ممکن ہے۔ زیاد الدرعاوی نے عرب لیگ کی جانب سے حوصلہ افزائی کرنے اور وہیل چیئر کی نمائشی تقریب منعقد کرانے پر منتظمین کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ معذوروں کے لیے اس منفرد ایجاد میں کامیابی کے بعد اسے عرب یوتھ کونسل میں بھی اسے رکنیت مل گئی ہے۔

یاد رہے کہ زیاد الدرعاوی نے حال ہی میں اردن کے دارالحکومت عمان میں دورے پر آئے فلسطینی صدر محمود عباس سے بھی ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات میں زیاد نے صدر کو بھی نئی تیار کردہ وہیل چیئر کے بارے میں بریفنگ دی تھی۔