.

شام سے گولان پر راکٹ باری کا اسرائیلی دعوی

واقعہ اسدی فوج اور باغیوں کے درمیان جھڑپوں کے باعث پیش آیا: ترجمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ شام سے اسرائیلی زیر تسلط مقبوضہ گولان کے علاقے میں ھاون طرز کا راکٹ گرنے کی شکایت موصول ہوئی ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ بیس جون کو پیش آنے والے اس واقعے میں کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔ اسرائیلی فوجی اہلکار راکٹ کے ہدف کا تعین کرنے میں مصروف ہیں۔ اس حوالے سے صہیونی فوج نے مزید تفصیل نہیں بتائی۔

ان کا کہنا تھا کہ راکٹ باری شام میں جاری داخلی صورتحال کا نتیجہ معلوم ہوتی ہے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ راکٹ حملہ اسرائیل کو نشانہ بنانے کے لئے نہیں کیا گیا بلکہ یہ شامی باغیوں اور سرکاری فوج کے درمیان جھڑپ میں داغا گیا جو غلطی سے اسرائیل کے زیر نگیں گولان کی پہاڑیوں میں جا گرا۔

گزشتہ چند مہینوں کے دوران شامی سر زمین سے کئی بار راکٹ باری کی گئی جس کے جواب میں اسرائیل نے جوابی کارروائی بھی کی۔ گزشتہ ماہ اس وقت خطے میں پائی جانے والی کشیدگی میں شدید اضافہ ہوگیا تھا جب اسرائیلی فضائی حملے میں دمشق کے قریب شامی اسلحے کے ذخیرے کو نشانہ بنایا تھا۔ حملے کے بعد شامی حکومت نے خبردار کیا تھا کہ دوبارہ کی گئی صہیونی جارحیت کا فوری جواب دیا جائے گا۔

یاد رہے کہ اسرائیل نے 1967ء کی عرب۔اسرائیل جنگ کے وقت سے گولان کی پہاڑیوں کے 1200 مربع کلومیٹر علاقے پر قبضہ کر رکھا ہے۔ بعد ازاں اسرائیل اس علاقے کو یہودی ریاست میں ضم کرنے کا اعلان بھی کر چکا ہے، تاہم عالمی برادری اسرائیل کے اس فیصلے کو نہیں مانتی اور اس علاقے کو مقبوضہ علاقہ ہی گردانتی ہے۔