.

قاہرہ: مصر کی اسلامی جماعتوں کی صدر مرسی کے حق میں ریلی

حکومت مخالفین کا وزارت دفاع کے باہر نماز جمعہ کے بعد احتجاجی مظاہرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی اسلامی جماعتوں کے ہزاروں کارکنان نے دارالحکومت قاہرہ میں صدر محمد مرسی کے حق میں نماز جمعہ کے بعد ریلی نکالی ہے۔

صدر مرسی کی سابقہ جماعت اور اخوان المسلمون کے سیاسی چہرہ انصاف اور ترقی پارٹی سمیت متعدد جماعتوں نے قاہرہ کے نصر سٹی میں واقع جامع مسجد رابعہ العدویہ کے باہر نماز جمعہ کے بعد ریلی کی اپیل کی تھی۔

مسجد کے باہر واقع چوک میں اسلامی جماعتوں کے ہزاروں حامی جمع تھے۔انھوں نے مصر کے قومی پرچم کے علاوہ بینرز بھی اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا کہ عوام کی رائے کا احترام کیا جائے۔بعض لوگ صدرمرسی کی تصاویر بھی اٹھائے ہوئے تھے۔

مظاہرے میں شریک ایک بائیس سالہ نوجوان جابرنادر کا کہنا تھا کہ ''لوگ ایک قانونی نظام کے خلاف بغاوت کرنا چاہتے ہیں۔ڈاکٹر مرسی دنیا کی کسی بھی دوسری ریاست کی طرح آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے نتیجے میں صدر منتخب ہوئے تھے''۔

مصری صدر کے مخالفین ان پر الزام عاید کررہے ہیں کہ وہ سرکاری اداروں میں اسلامیوں کی اجارہ داری قائم کررہے ہیں جبکہ ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ وہ عشروں سے بدعنوانیوں سے لتھڑے ہوئے اداروں کی تطہیر کررہے ہیں۔انھوں نے تیس جون کو حزب اختلاف کی اپیل پر مظاہروًں کی مذمت کی ہے اور وہ اسے جمہوریت کے خلاف بغاوت قرار دے رہے ہیں۔

درایں اثناء قاہرہ سے العربیہ کے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ شہر کے وسط میں واقع وزارت دفاع کے باہر حزب اختلاف کے سیکڑوں حامیوں نے نماز جمعہ کے بعد مظاہرہ کیا ہے۔وہ صدر مرسی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہے تھے۔

صدر مرسی کی جانب سے اسی ہفتے اسلامی جماعتوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات کے صوبائی گورنرز کے طور پر تقرر کے بعد سے ان کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان کشیدگی پائی جارہی ہے اور ان کے درمیان جھڑپوں میں کم سے کم سو افراد زخمی ہوگئَے ہیں۔

صدر کے مخالفین نے ان کے خلاف تیس جون کو ان کے اقتدار کی پہلی سالگرہ کے موقع پر ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کا اعلان کررکھا ہے اور یہ مظاہرے تمرد (بغاوت ) مہم کے تحت کیے جارہے ہیں۔وہ صدر مرسی سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

حزب اختلاف کی جانب سے یہ کہا جارہا ہے کہ وہ اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے صدر کے خلاف بھی سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف 2011ء کے اوائل میں برپا کردہ مظاہروں کی طرح کے بڑے احتجاجی جلسے جلوس منعقد کریں گے۔

مصری صدر کے انتہا پسند ناقدین ملک کی مسلح افواج پر بھی زور دے رہے ہیں کہ وہ انھیں اقتدار سے نکال باہر کریں اور اب کے بھی بالکل اسی طرح مداخلت کریں جس طرح انھوں نے حسنی مبارک کے خلاف عوامی بغاوت کے دوران مداخلت کی تھی۔تمرد تحریک صدرمرسی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہی ہے اور وسط مدتی صدارتی انتخابات کے لیے مہم چلا رہی ہے۔