.

مسجد اقصیٰ کے قریب سیکیورٹی گارڈ کی فائرنگ سے ایک شخص قتل

مقتول نے گولی لگنے سے قبل نعرہ تکبیر لگایا: محافظ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مقبوضہ بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ کے قریب ایک نجی یہودی سیکیورٹی ایجنسی سے وابستہ سیکیورٹی گارڈ کی فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہوگیا۔

اسرائیلی پولیس کے مطابق یہ واقعہ جمعہ کے روز مسجد اقصیٰ سے ملحقہ دیوار براق کے مقام پیش آیا۔ خیال رہے کہ بیت المقدس میں"دیوار براق" یہودیوں کے ہاں اہم ترین مقدس مقام سمجھا جاتا ہے۔ فائرنگ کے واقعے کے بعد اس جگہ کو ہرقسم کے زائرین کی آمدو رفت کے لیے بند کردیا گیا ہے۔ تاحال فائرنگ سے مارے جانے والے شخص کی شناخت نہیں ہوسکی ہے تاہم

صہیونی پولیس کے ترجمان میکی روزنفیلڈ نے میڈیا کو بتایا ہے کہ سیکیورٹی گارڈ نے فائرنگ اس وقت کی جب ایک شخص نے نعرہ تکبیر" اللہ اکبر" کا نعرہ لگایا۔ پولیس ترجمان کے مطابق سیکیورٹی گارڈ نے یہ سمجھا یہ کوئی شدت پسند فلسطینی ہے جو اس کی طرف حملے کے لیے بڑھ رہا ہے۔ اس خطرے کے پیش نظر سیکیورٹی اہلکار نے اس پر فائرنگ کردی۔

ادھر اسرائیلی ریڈیو نے قاتل سیکیورٹی گارڈ کا ایک بیان بھی نقل کیا ہے جس میں پولیس حکام سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ فائرنگ سے قبل ایک شخص جس کی عمر تقریباً چھیالیس سال تھی اپنی جیب سے کچھ نکالنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اسی دوران اس نے ایک بلند آہنگ نعرہ مارا، جس پرشبہ ہوا کہ وہ مجھ پرحملہ کرنےوالا ہے۔ ریڈیو رپورٹ کے مطابق پولیس کو مقتول کے قبضے سے کوئی خطرناک چیز برآمد نہیں ہوئی ہے، جس نے معاملے کو مزید مشکوک بنا دیا ہے۔