.

مصر کے سیاحتی صوبے الاقصر کے متنازعہ گورنر مستعفی

استعفیٰ مسترد یا منظور ہونے کا فیصلہ صدر کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے صوبہ الاقصر میں حال ہی میں مقرر کردہ متنازعہ گورنر انجینیئرعادل الخیاط نے اپنا استعفیٰ صدر محمد مرسی کو پیش کردیا ہے۔ دوسری جانب عہدہ چھوڑنے والے گورنر کی تنظیم "جماعت اسلامی" نے بھی الاقصر کی صوبائی گورنر شپ نہ لینے کا یقین دلاتے ہوئے عادل الخیاط کے استعفےکی تصدیق کی ہے۔

خیال رہے کہ عادل الخیاط کو چند روز پیشتر صدر محمد مرسی نے سیاحتی صوبہ الاقصر کا گورنر مقرر کیا تھا۔ تاہم سخت گیر مذہبی جماعت سے تعلق کی بناء پر سیاسی مخالفین نے اس تعیناتی پر ایک طوفان کھڑا کردیا تھا۔

معاصر سعودی اخبار "الشرق الاوسط" کے مطابق جماعت اسلامی مصر نے صوبہ الاقصر کی گورنری پرعوامی حلقوں کی طرف سے اٹھنے والا اعتراض قبول کرتے ہوئے حال ہی میں تعینات کیے گئے جماعت سے وابستہ گورنر عادل الخیاط کو ہٹا دیا ہے۔ الخیاط نے اپنا استعفیٰ صدر کو پیش کردیا ہے تاہم فی الحال صدر نے اسے منظور یا مسترد کرنے کا فیصلہ نہیں کیا۔

جماعت اسلامی مصر کے گورنر پراعتراض کرنے والوں میں نہ صرف حزب مخالف کی جماعتیں پیش پیش ہیں بلکہ سیاحتی حلقے بھی ان کی تعیناتی کو شبے کی بنیاد پر دیکھ رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی ملک میں سیاحت کے فروغ کی مخالف ہے۔ یہ وہی جماعت ہے جس نے سنہ 1997ء میں الاقصر صوبے میں ایک مبینہ دہشت گردی کی کارروائی میں 58 سیاحوں کو قتل کردیا تھا۔

ادھر مصری حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر کے پاس عادل الخیاط کا استعفیٰ منظور کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں کیونکہ ان کی تعیناتی پر وزیرسیاحت ھشام زعزوع نے بھی اعتراض کرتے ہوئے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا تھا تاہم وزیراعظم ھشام قندیل نے زعزوع کا استعفیٰ قبول نہیں کیا ہے۔

خیال رہے کہ جماعت اسلامی مصر کا ماضی شدت پسندانہ پالیسی کے باعث ہمیشہ قابل اعتراض رہا ہے۔ سنہ نوے کی دہائی میں ہونے والے بعض پرتشدد واقعات اور سابق مقتول صدر انور سادات کے قتل میں بھی جماعت اسلامی ہی کو ملوث قراردیا جاتا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 25 جنوری 2011ء سے قبل جماعت اسلامی کی بیشتر قیادت جیلوں میں قید تھی۔ انقلاب کے بعد انہیں رہائی ملی۔


الخیاط کی متنازعہ تقرری

درایں اثناء جماعت اسلامی کے سیاسی چہرہ "تعمیر و ترقی" کی سپریم کونسل کے رکن اشرف السید نے اعتراف کیا ہے کہ عادل الخیاط کی صوبہ الاقصر کے لیے بطور گورنر تعیناتی جماعت کا متفقہ فیصلہ نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ جماعت نے الخیاط کو اس عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے تاہم حتمی فیصلہ صدر مملکت ہی کریں گے کہ آیا انہیں اس عہدے سے سبکدوش کیا جائے یا نہیں۔

اشرف السید کا کہنا تھا کہ عادل الخیاط کو صوبہ الاقصرکی گورنرشپ سے ہٹانے کے بعد کسی دوسرے صوبہ کی گورنرشپ دی جاسکتی ہے۔ کیونکہ ملک میں سترہ مزید صوبے ہیں، جن میں یہ گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ عادل الخیاط کے بارے میں یہ تاثر قطعی غلط ہے کہ وہ ملک میں سیاحت کے دشمن ہیں۔ الخیاط ملک میں مروجہ سیاحت کی حمایت کی ضمانت دینے کو بھی تیار ہیں۔ انہوں نےاسلام پسندوں میں خود کو ایک معتدل رہ نماء کے طورپر متعارف کرایا ہے۔ دہشت گردی کو فروغ دینے کے الزامات جھوٹ کا پلندہ ہیں۔