.

سابق عراقی صدر صدام حسین کو پھانسی دینے والا ایک 'جلاد' قتل

صیف المالکی کو یوسفیہ میں بین الاقوامی شاہراہ پرگولیاں ماری گئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کی کالعدم بعث سوشلسٹ پارٹی کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ عراق کے سابق مصلوب صدر صدام حسین کو تختہ دار پر پھانسی لگانے والے ایک جلاد کو قتل کر دیا گیا ہے۔ تاہم بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ واقعہ کس وقت پیش آیا۔

البعث پارٹی کے ترجمان کے نام منسوب ایک بیان "ذی قار" نیوز ویب سائیٹ پر شائع ہوا ہے۔ بیان میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ صدام حسین کی سزائے موت پرعمل درآمد کرانے والا ایک سیکیورٹی افسر محمد نصیف المالکی کو مزاحمت کاروں نے یوسفیہ میں بین الاقوامی شاہراہ پر گولیوں کا نشانہ بنایا، جس سے وہ موقع ہی پر دم توڑ گیا۔

سرکاری سطح پر البعث پارٹی کے اس دعوے کی تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ مقتول محمد نصیف المالکی ایک بھاری جسامت اور قدو قامت کا مالک تھا، جو صدام حسین کے گلے میں پھانسی کا پھندہ ڈالنے کے وقت تیار کی گئی ویڈیو میں صاف دکھائی دے رہا تھا۔ مقتول نے صدام حسین کے چہرے پر "ڈیتھ ماسک" پہنانے کی کوشش کی لیکن سابق صدر نے اسے پہننے سے انکار کردیا تھا۔ اس کے بعد نصیف المالکی صدام حسین کو پھانسی کے پھندے کے قریب لے گیا۔ جہاں انہیں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔

"ذی قار" نے نصیف المالکی کا مزید تعارف کراتے ہوئے بتایا ہے کہ نصیف عراق پرامریکی قبضے سے قبل طواریج اور اس کے مضافات میں سبزی فروش کا کام کرتا تھا۔ بعد ازاں وہ عراقی وزیراعظم نوری المالکی کے سیکیورٹی سکواڈ میں شامل گیا۔ جہاں ترقی کرتے ہوئے وہ کیپٹن کے عہدے تک پہنچا۔ سابق صدر صدام حسین کو پھانسی دینے کے لیے جن 'جلادوں' کا انتخاب کیا گیا ان میں نصیف المالکی بھی شامل تھا۔