.

جنیوا مذاکرات میں بشارالاسد کے استعفے کی توقع نہ کی جائے:ولید المعلم

شامی باغیوں کو مسلح کرنے سے جنگ طول پکڑے گی اور تشدد بڑھے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی حکومت جنیوا مذاکرات میں اقتدار کی منتقلی کے لیے نہیں جائے گی اور اگر حزب اختلاف صدر بشارالاسد کے استعفے کی توقع کرتی ہے تو پھر اسے جنیوا جانے کی ضرورت نہیں ہے۔

یہ بات شامی وزیر خارجہ ولید المعلم نے سوموار کو دمشق میں نیوز کانفرنس میں کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ بشارالاسد اقتدار نہیں چھوڑیں گے،اگر آپ کی (حزب اختلاف کی) شرط یہ ہے کہ صدر اسد استعفیٰ دے دیں تو پھر آپ کو (مذاکرات کے لیے) آنے کی ضرورت نہیں ہے۔

ولید المعلم نے ''دوستان شام'' ممالک کی جانب سے باغیوں کو مسلح کرنے کے فیصلے کی مذمت کی اور کہا کہ اس اقدام سے صرف جنگ ہی طول پکڑے گی۔انھوں نے کہا کہ دوحہ اجلاس میں جو فیصلہ کیا گیا،وہ بہت سنگین ہے کیونکہ اس سے بحران طول پکڑے گا ،تشدد ،ہلاکتوں اور دہشت گردی کی حوصلہ افزائی ہوگی۔

انھوں نے کہا کہ باغی جنگجوؤں کو ملنے والی غیر ملکی امداد کے باوجود ان کا صدر بشارالاسد کی فوج سے کوئی مقابلہ نہیں ہے۔اگر وہ یہ توقع کرتے ہیں یا یہ خواب دیکھ رہے ہیں کہ وہ طاقت کا توازن قائم کرسکتے ہیں تو پھر میرے خیال میں انھیں اس کے رونما ہونے کے لیے کئی سال درکار ہوں گے۔