.

شام میں جاری خانہ جنگی عراق تک پھیل سکتی ہے:نوری المالکی

القصیرپر قبضے کی لڑائی میں عراقی فوجیوں کی شرکت کی تردید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی وزیراعظم نوری المالکی نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ پڑوسی ملک شام میں جاری خانہ جنگی ان کے ملک تک بھی پھیل سکتی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اگر شام میں بعد از بشارالاسد اسلامی بنیاد پرستوں نے اقتدار سنبھال لیا تو اس سے عراق کو نقصان پہنچے گا۔

نوری المالکی نے سوموار کو العربیہ کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں کہا کہ ''مجھے خطے میں ابتر ہوتی ہوئی صورت حال کے پیش نظر عراق کے اتحاد کے بارے میں تشویش لاحق ہے جبکہ عراق کو تقسیم کرنے کے لیے پہلے ہی سازشیں کی جارہی ہیں''۔

انھوں نے کہاکہ شام سے عراق میں ہتھیار اسمگل کیے جا رہے ہیں۔انھوں نے خبردار کیا کہ اگر شام میں دہشت گرد انتہا پسند حکومت قائم ہوگئی تو اس سے صورت حال مزید بگڑ جائے گی۔

تاہم وزیراعظم نوری المالکی کا کہنا تھا کہ شام کی سرحد کے ساتھ عراقی سکیورٹی فورسز کی تعیناتی کا صدر بشارالاسد کی فورسز اور باغیوں کے درمیان جنگ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عراق پر شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کی حمایت کا الزام عاید کیا جارہا ہے اور اس پر یہ بھی الزام عاید کیا گیا ہے کہ اس نے حال ہی میں شام کے وسطی قصبے القصیر پر اسدی فوج کے دوبارہ قبضے کے لیے اپنے فوجی بھیجے تھے جنھوں نے باغیوں کے خلاف لڑائی میں حصہ لیا تھا۔

نوری المالکی نے انٹرویو میں ان الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ شام کی سرحد کے ساتھ القصیر میں لڑائی سے بھی بہت پہلے عراقی فوجیوں کو تعینات کردیا گیا تھا اور اس کا مقصد القاعدہ سے وابستہ النصرۃ محاذ کے جنگجوؤں کو سرحدی علاقے میں دراندازی سے روکنا تھا۔تاہم انھوں نے عراقی فوجیوں کی القصیر جنگ میں شرکت سے متعلق الزام کا کوئی واضح جواب نہیں دیا۔