.

لبنان: سنی عالم حزب اللہ اور فوجی حملے کے باوجود مسجد میں مورچہ بند

صیدا شہر میں کشیدگی، مسجد میں 20 ہلاکتوں کی اطلاع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنانی دارلحکومت بیروت سے 'العربیہ' کے نامہ نگار نے اپنے مراسلے میں بتایا ہے کہ سنی عالم دین الشیخ احمد الاسیر کے حامیوں اور شیعہ تنظیم حزب اللہ کے درمیان مسجد بلال بن رباح کے اردگرد جھڑپوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا ہے۔

ادھر علاقے میں لبنانی ملیشیا اور حزب اللہ کے جنگجو بڑی تعداد میں دیکھے جا رہے ہیں جبکہ جھڑپوں کے باعث بیروت اور صیدا کو ملانے والی مرکزی شاہراہ بند ہو گئی ہے۔

لبنانی نیوز چینل 'المستقبل' نے مسجد بلال بن رباح میں بیس افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ جھڑپوں کا سلسلہ شہر کے داخلی بازار میں بھی شروع ہو چکا ہے۔ ادھر صیدا میونسپلیٹی نے متحارب فریقین سے جنگ بندی کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ فائرنگ کا سلسلہ فی الفور بند ہونا چاہئے تاکہ علاقے میں ضروری انسانی امداد بہم پہنچائی جا سکے۔

منگل کے روز ہونے والی جھڑپوں میں بارہ افراد ہلاک و زخمی ہیں۔ ان میں چار کا تعلق حزب اللہ سے بتایا جاتا ہے۔ درایں اثنا لبنانی فوج نے بھی ایک بیان میں کہا ہے کہ لڑائی میں ان کے بارہ فوجی کام آئے ہیں۔

لبنانی فوجی ساحلی شہر صیدا میں شروع ہونے والی جھڑپوں میں اس وقت ہلاک ہوئے کہ جب الشیخ الاسیر کے حاشیہ برداروں نے عبرا صیدا میں فوجی ناکے پر حملہ کیا۔ جس کے بعد وقفے وقفے سے علاقے میں جھڑپیں ہوتی رہیں۔ مسجد بلال بن رباح میں الشیخ الاسیر کی لبنانی فوج، حزب اللہ اور امل ملیشیا کے حملوں کے باوجود ثابت قدم مورچہ بندی سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا۔

الشیخ الاسیر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ 'ٹویٹر' پر ایک پیغام میں اطلاع دی تھی کہ "لبنانی فوج، حزب اللہ اور امل ملیشیا نے مسجد بلال پر بھاری راکٹوں سے حملہ کیا ہے۔"